بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

فرنچ فرائز کے اسٹال سے ریسٹورنٹ تک کا سفر،عاطفہ کی کہانی

ایک ایسی لڑکی کی کہانی جو ان لوگوں کیلئے جیتی جاگتی مثال ہے جو مشکل سے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے حوصلے اور عزم کو برقرار رکھتے ہوئے محنت سے آگے بڑھتے ہیں۔

کراچی سےتعلق رکھنے والی نوعمر لڑکی جو چند ماہ قبل ایک چھوٹے سے اسٹال پر  فرنچ فرائز بیچنے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔

عاطفہ نامی یہ لڑکی اورنگی ٹاؤن کے مصروف علاقے میں ایک چھوٹے سے اسٹال پر فرنچ فرائز فروخت کر رہی تھی کہ رہائشیوں نے عاطفہ کے اس اقدام کیلئے اس کی حوصلہ افزائی کی اور ایک یوٹیوبر نے اس کی کہانی کو وائرل کردیا۔

اس لڑکی کی کہانی کیا ہے اور اس کام کو کرنے کی مجبوری کیا تھی اس حوالے سے بات کرتے ہوئے عاطفہ نے   نجی مارنگ شو  ’گڈ مارننگ پاکستان‘ میں شرکت کی۔

شو میں عاطفہ نے اپنے خاندان کی کفالت کے لیے فرنچ فرائز بیچنے اور  اپنی آزمائش کے بارے میں بات کی۔

عاطفہ نے بتایا کہ ’وہ اسکول سے گھر آنے کے بعد اپنے والد کے کام میں ان کی مدد کرتی تھی، تاہم اس کی والدہ کے بیمار پڑنے کے بعد اس کے والد کی نوکری چلی گئی۔‘

لڑکی  نے مزید کہا کہ ان کے لیے گھر کا کرایہ ادا کرنا مشکل تھا کیونکہ ان کے پاس کھانے کے لیےبھی پیسے نہیں تھے اور  مالک انہیں کرایہ ادا کرنے پر شرمندہ کرتا تھا۔

عاطفہ نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے زورِ بازو کی مدد سے مشکل سے نکلنے کا فیصلہ کیا اور گھر میں رکھا ہوا ڈیپ فرائر استعمال کرنے کا سوچا، ساتھ ہی ساتھ مزید کچھ رقم  کو اسٹال کا سامان خریدنے کے لیے استعمال کیا۔

حوصلہ مند لڑکی نے بتایا کہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کچھ لوگوں نے انکے کام کو سراہا تو کچھ کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ویڈیو وائرل  ہونے کے بعد گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے ان سے ملاقات کی اور انہیں درپیش مسائل کے بارے میں پوچھا، دکان کھولنے کے لیے پیسے دیے اور داخلہ فیس بھی ادا کیا اور  بیوٹیشن کورس کے تمام اخراجات اٹھائے۔

واضح رہے کہ عاطفہ نامی یہ لڑکی اپنے بلند عزائم کے ساتھ مستقبل میں مختلف قسم کے پکوانوں کے ساتھ ایک چھوٹا ریسٹورنٹ  کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔