اسلام آباد: وفاقی وزیراطلاعات مریم اورنگزیب نے پیمرا ترمیمی بل سے متعلق کہاہے کہ میں نے کوئی فیصلہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مشاورت کے بغیرنہیں کیا، کمیٹی میں تمام تنظیموں کے نمائندے شامل ہیں، ہم نے پیمرا کے ہاتھ باندھے نہیں کھولے ہیں، چیئرمین پیمرااب نہ کسی پر پابندی لگاسکتاہےنہ لائسنس منسوخ کرسکتا ہے، اب شکایات کونسلیں فیصلہ کریں گی،کونسلزکا فیصلہ اتھارٹی کے پاس جائے گا،تیسرے مرحلے میں عدالت جایاجاسکے گا ۔ نجی ٹی وی کو انٹرویومیں مریم اورنگزیب نے کہاکہ پیمراقوانین میں ترامیم پرمشاورت اپریل 2022 سے شرو ع کی گئی تھی ،میں نے کوئی فیصلہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مشاورت کے بغیرنہیں کیا، جوائنٹ ایکشن کمیٹی میں تمام تنظیموں کے نمائندے شامل ہیں۔انہوں نے کہاکہ الیکٹرونگ میڈیا کےلئے کوئی فورم موجود نہیں تھا، الیکٹرونک میڈیاکوتمام واجبات دومہینے میں اداکرنے ہیں،ہم نے کئی کئی ماہ کی روکی گئی تنخواہیں ریکورکرکرکے ملازمین کو دلوائیں، ساٹھ دن والی تنخواہ کی شرط نہیں،واجبات کے لئے ہے،لوگوں کے پاس گھر کے خرچے ،دوائی کے لئے بھی پیسے نہیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ ہم نے پیمرا کے ہاتھ باندھے نہیں بلکہ کھولے ہیں،کیوںکہ ہم نے بھگتا ہے، نوازشریف کی تقریرپر پابندی لگائی گئی، سلیم بیگ نے یہ اقدام کیاتھااور یکطرفہ طور پر کیاگیاکیونکہ اس وقت کا قانون اجازت دیتاتھا لیکن اب جوترمیم کی گئی ہیں چیئرمین پیمرا نہ کسی پر پابندی لگاسکتاہےنہ لائسنس منسوخ کرسکتا ہے،اب شکایات کونسلز قائم ہوں گی، پہلے چینل بند کرنے کا فیصلہ چیئرمین پیمرا کرتے تھے، ہم نے یہ اختیار شکایات کونسلز کو دے دیا،کونسل کا فیصلہ اتھارٹی کے پاس جائے گا، تیسرے مرحلے میں عدالت جاسکتے ہیں،اتھارٹی کورم کے ساتھ بھی فیصلہ کرے تو وہ چینل کو بندنہیں کرسکتے،کوٹنٹ کے اوپرچیئرمین پیمرا کوئی ایکشن نہیں لے سکتے۔انہوں نے کہاکہ یہ پیمرا کی اصلاحات کا عمل ہے اور یہ عدالت کے احکامات کے مطابق ہورہی ہے۔انہوں نے کہاکہ چیئرمین پیمرا کی تقرری کا معاملہ بھی حل ہو جائے گا
میڈیاقوانین مجوزہ ترامیم: کوئی فیصلہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی مشاورت کے بغیرنہیں کیا،پیمرا کے ہاتھ باندھے نہیں کھولے ہیں، مریم اورنگزیب








