اسلام آباد(ممتاز نیوز) وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ان کے نگران وزیراعظم بننے سے متعلق من گھڑت خبرپر غیرضروری ردعمل آئے،بعض حلقوں کے ردعمل پر حیرانی ہوئی،نگران وزیراعظم کے لئے مشاورت کا عمل ابھی شروع ہی نہیں ہوا، نگران وزیراعظم کے حوالے سے قیادت جو فیصلہ کرے گی قبول ہوگا
الیکشن موخر ہونے کا ہوئی امکان نہیں،ڈالرکے مقابلے میں روپے کی اصل قیمت 244 روپے ہے،بطور پاکستانی روپے کی ناقدری پر ناخوش ہوں،وسیع تر ملکی مفاد میں کچھ نہیں کہوں گا،نوازشریف دھوم دھڑکے سے واپس آکر الیکشن میں حصہ لیں گے۔ نجی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں اسحاق ڈار نے کہا کہ میں نے اپنے نگران وزیراعظم بننے کے حوالے سے آج تک کوئی بیان نہیں دیا، ایک خبر لگی،منع کرنے کے وہ خبر چلائی گئی اور پھر اس پر اتنا بحث و مباحثہ ہوا،نگران وزیراعظم کا تقرر آئین کے مطابق ہونا ہے،اس ضمن میں وزیراعظم مسلم لیگ(ن) کے قائدنوازشریف اور اتحادیوں سے مشاورت کریں گے اور یہ عمل ابھی شروع ہی نہیں ہوا، وقت سے پہلے ایک قیاس آرائی پر مبنی خبر پر اتنی بحث ہوئی من گھرٹ خبر پر بعض حلقوں کی جانب سے جو ردعمل آیا اس پر مجھے بڑی حیرانی ہوئی،من گھڑت خبر پر غیرضروری ردعمل آئے۔ انہوں نے کہاکہ نگران وزیراعظم کے حوالے سے قیادت جو فیصلہ کرے گی قبول ہوگا،کوئی بھی ذمہ داری مانگ کر نہیں لینی چاہئے،نگران وزیراعظم سے متعلق بحث قبل از وقت ہے، پی ڈی ایم اور اتحادی قیادت کرے گی۔وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستان ک آئندہ نو ماہ مشکلات کا سامنا ہوگا،گورننس کو تین ،چار ماہ کے لئے منجمد نہیں کیا جاسکتا،نگران حکومت کے اختیارات میں اضافہ کئے بغیر ملک نہیں چلایا جاسکتا۔ انہوں نے نگران حکومت کے ایک سال چلنے یا الیکشن موخرہونے کے امکان کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہاکہ دو اسمبلیوں کی تحلیل سے سولہ ارب روپے کا اضافی خرچہ ہو رہا تھا، آئین میں فنانشل ایمرجنسی کی گنجائش تھی، حکوم کو توسیع مل جاتی، وزیراعظم نے پوری کوشش کی کہ اس طرف نہ جایاجائے،نگران حکومت کے ساٹھ کے بجائے نوے دن ہونے چاہئیں،اتحادی جماعتوں کے مطابق ساٹھ روز کافی نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ صاف و شفاف الیکشن الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہاکہ نومئی کے بعد صورت حال تبدیل ہوئی،اداروں کو تہس نہس کر نے اور ڈکیٹربننے کا سوچاگیا، پی ٹی آئی کے سنجیدہ لوگوں نے نو مئی کے بعدپارٹی کو چھوڑا، یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے تھے کہ پاکستان ڈیفالٹ سے نہیں بچ سکتا،کبھی بھی آئی ایم ایف کے بلیک میل کرنے کا لفظ استعمال نہیں کیا،بار بار کہاکہ آئی ایم ایف یا اس کے بغیر پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا،دنیا حیران ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ سے کیسے بچ گیا؟۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ حکومت کے دور میں روپے کی قدر گرنا شروع ہوئی،20 ارب ڈالر کے قرضے پچھلی حکومت کے دور میں بڑھالئے گئے،ڈالرکے مقابلے میں روپے کی اصل قیمت 244 روپے ہے، ڈالر کے قیمت 244 پر واپس آنی چاہئے،بطور پاکستانی روپے کی ناقدری پر ناخوش ہوں،بطور وزیرخزانہ وسیع تر ملکی مفاد میں کچھ نہیں کہوں گا۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف کی واپسی بھرپوراور دھوم دھڑکے والی ہوگی اور واپس آکر انتخابات میں حصہ لیں گے،پارلیمنٹ نے نااہلی کی مدت پانچ سال کردی ہے، نوازشریف اور جہانگیرترین کے پانچ سال پورے ہوچکے ہیں،اس کےبعد کے درجنوں لوگوں کوبھی فائدہ ہوگا ۔انہوں نےکہاکہ پاکستان نوازشریف کی قیادت میں 24 ویں بڑی معیشت بنا،ملک کو نوازشریف کی لیڈشپ کی ضرورت ہے ،وہ چوتھی مرتبہ وزارت عظمیٰ کےامید وار ہوں گے ،میری رائے ہے کہ شہبازشریف کااب مرکز میں نوازشریف کی ٹیم کا حصہ ہوناچاہئے،پنجاب کو اب اوپن چھوڑناچاہئے۔آئندہ وزیراعلیٰ پنجاب سے متعلق سوال پرانہوں نے کہاکہ پنجاب میں حمزہ یا مریم کے بارے میں ابھی کچھ کہناقبل ازوقت ہوگا، یہ حالات پر منحصر ہے۔ انہوں نےکہاکہ 5 سال بدترین انتقام کا نشانہ بننے پر کوئی غصہ نہیں، اللہ نے مجھے واپس پرانے منصب پر فائز کیا ہے، معاشی تباہی کے ذمہ دار پراجیکٹ پی ٹی آئی اور اس کو لانے والے دونوں ہیں۔
کوئی ذمہ داری مانگ کرنہیں لینی چاہئے، نگران وزیراعظم سے متعلق قیادت جو فیصلہ کرے گی قبول ہوگا،اسحاق ڈار








