اسلام آباد(طارق محمود سمیر) پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پی ڈی ایم حکومت کو پہلی مرتبہ قانون سازی میں پیپلزپارٹی اسی طرح ن لیگ کی مخالفت میںکھل کر سامنے
آ گئی جس طرح وزیر خزانہ اسحاق ڈارکو نگران وزیراعظم بنانے کی تجویز سامنے آنے پر سخت ردعمل ظاہرکیا، سپیکر راجہ پرویز اشرف نے بھی پیپلزپارٹی کے موقف کی تائیدکرتے ہوئے الیکشن ایکٹ 2017میں ترامیم کا بل ایوان میں منظوری کے لئے پیش کرنے کا معاملہ موخرکرا دیا جبکہ مشترکہ اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور تحریک انصاف کی خواتین سینیٹرز کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا اور خواجہ آصف نے کوڑا کرکٹ تک کے الفاظ استعمال کر دیئے اور ان کے بعض ریمارکس تو سپیکرکو حذف کرنا پڑے۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اہم قانون سازی کے لئے بلایا گیا تھا جہاں سب سے اہم بل الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم پاس کرانی تھی اور اس مقصدکیلئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کافی تگ و دوکی لیکن پیپلزپارٹی نے حکومت میں ہوتے ہوئے اپوزیشن کا کردار ادا کیا ۔ تحریک انصاف کے بیرسٹر علی ظفر نے بھی ٹھوس دلائل دیئے ، پیپلزپارٹی کے ارکان کا موڈ دیکھتے ہوئے اجلاس ملتوی کردیا گیا اور یہ بل منظوری کے لئے پیش نہیں کیا گیا بلکہ اسے ایک دن کے لئے موخرکر دیا گیا ۔اس بل کے تحت الیکشن ایکٹ کی سیکشن 230 میں ترمیم کرکے نگران حکومت کو اہم پالیسی فیصلوں کا اختیار دینے کا قانون بنایا جا رہا ہے۔
پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما رضا ربانی نے ارکان کو ایجنڈے کی کاپیاں نہ دینے پر بھی احتجاج کیا جبکہ جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی اعتراضات اٹھائے اورکہا کہ اس طریقے سے پارلیمنٹ نہیں چلے گی ہمیں ایجنڈا کیوں نہیں دیا گیا۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پہلی مرتبہ تحریک انصاف کی خواتین نے بھرپور اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی لیکن ماحول اس وقت گالم گلوچ والا بن گیا جب خواجہ آصف نے تحریک انصاف کی خواتین کے لئے قابل اعتراض اور نامناسب ریمارکس دیے ۔
خواجہ آصف جب ان خواتین کے بارے میں قابل اعتراض ریمارکس دے رہے تھے تو پیپلزپارٹی کی انسانی حقوق اور خواتین حقوق کی چیمپئن ہونے کی دعویدار وفاقی وزیر شیری رحمان اور نوید قمر مسکراتے رہے اور انہوں نے کسی بھی موقع پر خواجہ آصف کو نا تو ٹوکا اور نہ ہی بعد میں مذمت کی جو افسوسناک امر ہے ۔
خواجہ آصف کا شمار سینئر سیاستدانوں میں کیا جاتا ہے اور وہ ان دنوں وزیر دفاع کے اہم عہدے پر فائز ہیں، سیاسی مخالفت میں بعض اوقات وہ ایسے جملے بھی کہہ دیتے ہیں جو نہ صرف غیر پارلیمانی بلکہ ہمارے معاشرے کی روایات کے بھی منافی ہوتے ہیں۔ سپیکر پہلے مسکراتے رہے پھر جب احتجاج ہوا تو انہوں نے الفاظ کارروائی سے حذف کئے ۔
ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ سینئر صحافی اسدکھرل نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی تلخ کلامی اور لڑائی کے حوالے سے ٹویٹس کئے ہیں جن کے بارے میں ابھی تک تحریک انصاف کے کسی ترجمان نے کوئی بات نہیںکی ۔ اسدکھرل پانامااورڈان لیکس سیکنڈل سامنے آنے کے بعد میاں محمد نوازشریف ، مریم نواز اور ن لیگ کے سینئر رہنمائوںکے بارے میں بھی اسی انداز میں تبصرے کیا کرتے تھے اور بعض ایسی خبریں دیتے تھے جن پر ن لیگ کی قیادت اور سنجیدہ صحافتی حلقے نہ صرف حیرانی کا اظہارکرتے تھے بلکہ اسے خاص قسم کا پروپیگنڈہ بھی قرار دیتے رہے ہیں ۔
اسدکھرل نے جو ٹویٹ کئے ہیں ان کے مطابق زمان پارک سے اہم ترین چندروزقبل بشریٰ بی بی نے عمران خان کوکہا کہ میں ایک باپردہ خاتون ہوں ،آپ سے شادی عدالتوں،نیب اور دیگر اداروں میں پیشیاں بھگتنے کیلئے نہیں کی۔ عمران سامنے چشمہ لگائے سر جھکائے سنتے رہے اور اچانک بات تکرار سے ہاتھا پائی تک پہنچ گئی جس پر بشری بی بی کی نقل وحرکت پر پابندی لگادی گئی ہے ۔
بنی گالہ میں خانساماں، دو مالی اورگھر میں صفائی کرنے کے ساتھ گھر کاباہرسے سامان لانے والاملازم اورکام کاج کرنیوالی تین خواتین ملازمائیں ابھی تک پرانی ہی ہیں ،ذرائع سے تصدیق کے بعد یہ انفارمیشن شیئرکی جارہی ہے تاہم پھربھی اگر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ،بشری بی بی اور روبینہ خانم یا انکا کوئی ترجمان اپنا موقف دینا چاہے تو پلیٹ فارم حاضر ہے اور وضاحت یا موقف کو من وعن پیش کیا جائے گا۔
پی پی مخالف









