سینئر سیاستدان خواجہ آصف کے خواتین پارلیمنٹ ممبران کیخلاف نامناسب الفاظ استعمال کرنے پر وفاقی وزیر شیری رحمان نے انہیں خود ایک عورت ہوتے ہوئے اس وقت روکا کیوں نہیں؟
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انہوں نے کہا کہ مجھے معاف کر دیں، میں اس دن پارلیمنٹ میں اپنے ایک ساتھی کیساتھ قومی موافقت کے منصوبے پر کچھ نکات شیئر کر رہی تھی۔
U r a liar! Unfortunately this is so disgraceful that first you were smiling on the filth he was speaking and now you are insulting our common sense. You must have shown some courage to admit your uncouth behavior. By your lame excuse it’s clear that you are not sorry at all. https://t.co/A0uDsQ3Xel
— Dr. Shahbaz GiLL (@SHABAZGIL) July 27, 2023
مجھے انہیں ضرور روکنا چاہیے تھا لیکن پھر میں نے سوچا کہ یہ معمول کے مطابق ایک سیاسی میچ ہے ، خواتین کیلئے بالکل مخصوص نہیں۔
یقیناََ میں ان ریمارکس پر مسکرا نہیں رہی تھی بلکہ یہ مسکراہٹ اس لیے تھی کہ میرے ماحولیاتی منصوبے میں کام سے متعلق کابینہ کے تمام ممبران اتفاق رائے کیا، اس وجہ سے میں خوش تھی کیونکہ اسے مکمل کرنے میں کئی راتیں لگیں۔مزید یہ کہ میں نے اگر ریمارکس سنے ہوتے تو ضرور مداخلت کرتی۔
اس کے علاوہ انہیں جواب دیتے ہوئے ٹوئٹر پر ہی شہباز گل نے کہا کہ آپ جھوٹی ہو۔ بدقسمتی سے یہ اس قدر بے عزتی ہے کہ جب وہ بول رہے تھے تو آپ مسکرا رہی تھیں اور اب آپ ہماری عقل مندی کی توہین کر رہی ہیں۔
اورآپ کو کچھ ہمت تو دکھانی ہو گی اس غیر اخلاقی رویے کو تسلیم کرنے کیلئے مگر آپ کی باتوں سے یہ واضح ہے کہ آپکو بالکل افسوس نہیں۔









