بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مقبوضہ کشمیر: انتہا پسند مودی حکومت کاکشمیری مسلمانوں کو بے دخل کرنے کاخوفناک منصو بہ

سرینگر (کے پی آئی) مقبوضہ جموں وکشمیرمیںمودی کی فاشسٹ حکومت نے کشمیری مسلمانوں کو اپنی ہی سرزمین میں بے دخل کر کے بھارتی انتہاپسند ہندوں کو بسانے کیلئے اسرائیلی طرز کے ایک خوفناک منصوبے پر عملدرآمد شروع کردیا ہے ،پہلے مرحلے پر جموں وکشمیربنک کے قرض نادہندگان کی جائیدادوں کوضبط کرکے انہیںبھارتی باشندوں کو الاٹ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے ، کے پی آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق مودی حکومت کا مقبوضہ کشمیرمیں کشمیری مسلمانوں کو اپنی جائیدادوں سے بے دخل کرکے انتہاپسند آر ایس ایس کو بسانے کا ایک خوفناک منصوبہ سامنے آیا ہے ،کشمیر میںاسرائیلی طر ز کے اس منصوبے پر کام شروع ہوچکا ہے ،اس ناپاک منصوبے کے تحت کشمیر ی مسلمانوں کو اپنی جائیدادوں سے بے دخل کرکے انہیں بھارتی باشندوں کو بیچ دیا جائے گا ،مودی کے ناپاک عزائم کے تحت پہلے کشمیریو ں کی املاک کو بلڈوز کرایا جارہا تھا جس کے خلاف کشمیر اور بھارت کے اندر سخت ردعمل سامنے آیا اور اس کے بعد یہ سلسلہ تو وقتی طور پر رک گیا ہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ بھارت کی بدنام زمانہ تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے) کی جانب سے کشمیر یوں خاص کشمیری حریت پسندوں کی جائیدادوں کو سیل کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے ، اب مودی حکومت نے جو ناپاک منصوبہ بنایا ہے اور اس منصوبے کے تحت جتنے بھی کشمیر ی لوگوں نے جموں و کشمیر بینک سے قرضہ لیا ہے خاص طور وہ لوگ جنہوں نے اپنی تجارت کو بحال اور کامیاب بنانے کے لیے کشمیر بینک سے قرضہ لیا ہوا ہے اوروہ کشمیر کی خراب صورتحال کی وجہ سے بینک کا قرصہ واپس کرنے میں ناکامیاب رہے ہیں ان کی پراپرٹی کو ہڑپ کرنے کا یہ ناپاک منصوبہ بنایا گیا ہے اس منصوبے کے تحت جموں و کشمیر بینک نے 100 سے زائد مکانوں کی فہرست بنائی ہے جن کو اس مہینے کے اندر اندر ضبط کیا جائے گا اور ضبط کرنے کے بعد ان مکانوں کو بھارتی باشندوں کو بیچ دیا جائے گا اور یہ سارا اس منصوبے کے تحت پہلے سے طے شدہ کیا گیا ہے بھارت کی مختلف ریاستوں میں رہنے والے انتہاپسند آر ایس ایس کے لیڈر اور ان کے چاہنے والوں کو یہ مکانات دیے جانے کا ناپاک منصوبہ بنایا گیا ہے ،بھارتی سرکار نے اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے چند کشمیری جو کہ اس بینک میں کام کرتے ہیں ان کو پیسے کی لالچ دے کر اپنے لئے استعمال کیا ہے ،بینک کے یہ ملازمین جو کہ خود کشمیری ہیںبھارتی سرکار سے مل کر چند پیسوں کے عوض اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ استحصال کرنے جا رہے ہیں،جموں وکشمیر بنک نے بغیر کسی نوٹس کے یہ سلسلہ شروع کردیا ہے حتاکہ جموں وکشمیر ایوان صنعت وتجارت نے بھی اس سال کے شروع میں تاجروں کو ان قرضوں کی واپسی کے لئے کشمیر انتظامیہ سے مہلت مانگی تھی جس پر انتظامیہ نے ان کایہ مطالبہ تسلیم کیا تھا،لیکن اب بغیر کسی نوٹس کے جموں وکشمیر بنک کے قرض نادہندگان کی املاک کوایک طے شدہ منصوبے کے تحت ضبط کیا جارہا ہے ، اسی منصوبے کے تحت ایک 95 سالہ بزرگ کشمیری خاتون کے دو گھروں کو ضبط کیا گیا اوریہ بزرگ خاتون چھت کے بغیر سڑک پر آگئی،معاشی حالات خراب ہونے کے باعث مذکورہ خاتون نے جموں وکشمیر بنک سے قرضہ لیا تھا لیکن معاشی حالات اور خراب ہونے کے باعث وہ یہ قرضہ ادا نہ کرسکیںاور جموں وکشمیربنک جس کا دعوی ہے کہ وہ کشمیریوں کا اپنا بنک ہے نے اس خاتون کو بغیر کسی نوٹس کے اپنے گھرسے بے دخل کرکے اس کا مکان سیز کردیا اور وہ سڑک پر آگئی یہ بزرگ خاتون کئی بیماریوں میں بھی مبتلا ہے لیکن اس کے باوجود بزرگ ماں کو اپنے گھرسے نکا لا گیا ،اسی طرح اور کئی کشمیری لوگوں کی پراپرٹی اس وقت خطرے میں ہے ،ان جائیدادوں کو مودی حکومت نے بیچ کر بھارتی باشندوں خاص کر انتہاپسند آرایس ایس کو دینے کا منصوبہ بنایا ہے ،متاثرہ لوگوں نے انصاف پسند اقوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھارت کے ان غیر قانونی اور انسانیت سوز کارروائیوں کو نوٹس لیکر کشمیریوں کے اپنے ہی وطن میں بے دخل ہونے سے بچائیں ۔۔