حال میں ہی چاند پر پانی کی تلاش میں جانے والا روسی خلائی مشن ’ابنارمل صورتحال‘ کا شکار ہوگیا ہے۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق روس کی قومی خلائی ایجنسی کا کہنا ہے کہ روس کے لونا -25 خلائی جہاز کے ساتھ غیر معمولی صورتحال پیش آئی ہے۔
ایجنسی نے کہا کہ خلائی جہاز جب اپنی لینڈنگ سے پہلے کے مدار میں منتقل ہونے کی تیاری کر رہا تھا اس دوران وہ ’ابنارمل صورتحال‘ کا شکار ہوا۔
روسی خلائی جہاز پیر کو چاند کے جنوبی قطب پر اترنے والا ہے، جو چاند کے اس حصے کو تلاش کرنے کوشش میں ہے جس کے بارے میں سائنس دانوں کے خیال میں منجمد پانی اور قیمتی عناصر ہوسکتے ہیں۔
خلائی ایجنسی نے ہفتے کے روز ایک مختصر بیان میں کہا کہ ”آپریشن کے دوران خود سے ہی اسٹیشن پر ایک غیر معمولی صورتحال پیدا ہوئی، جس نے مخصوص پیرامیٹرز کے ساتھ حرکت کرنے کی اجازت نہیں دی۔“
انہوں نے مزید تفصیلات فراہم کیے بغیر کہا کہ ماہرین صورتحال کا تجزیہ کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ لونا -25 1976 کے بعد ایسا کرنے والا پہلا روسی خلائی جہاز ہے۔
تقریباً ایک چھوٹی گاڑی ہے، اس کا مقصد قطب جنوبی پر ایک سال تک کام کرنا ہوگا، جہاں حالیہ برسوں میں ناسا اور دیگر خلائی ایجنسیوں کے سائنسدانوں نے گڑھوں میں جمے ہوئے پانی کے نشانات کا سراغ لگایا ہے۔
پانی کی موجودگی کافی اہمیت کی حامل ہے جو ممکنہ طور پر چاند پر طویل عرصے تک انسان کے قیام کی اجازت دیتی ہے۔
اس سے قبل خلائی ایجنسی نے کہا تھا کہ اسے Luna-25 مشن سے پہلے نتائج موصول ہوئے ہیں اور ان کا تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ایجنسی نے خلائی جہاز سے لی گئی چاند کے زیمن گڑھے کی تصاویر بھی پوسٹ کیں۔ یہ گڑھا چاند کے جنوبی نصف کرہ میں تیسرا سب سے گہرا ہے، جس کا چوڑائی 190 کلومیٹر اور گہرائی آٹھ کلومیٹر ہے۔
مزید کہا کہ اب تک موصول ہونے والے اعداد و شمار سے چاند کی مٹی میں کیمیائی عناصر کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں اور چاند کی قریب کی سطح کا مطالعہ کرنے کے لیے بنائے گئے آلات کے آپریشن میں بھی مدد ملے گی۔









