نئی دہلی: بھارت میں خاتون ٹیچر کے کہنے پر ہندو طلباء کی جانب سے مسلم طالبعلم کو تھپڑ مارنے کے معاملے میں اہم پیش رفت سامنے آگئی، واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد انتظامیہ نے سکول کو فوری بند کر دیا۔
خیال رہے کہ کچھ روز قبل سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا گیا کہ ایک کلاس میں خاتون ٹیچر ہندو طلباء کو ان کے کلاس فیلو مسلم طالبعلم کو تھپڑ مارنے کا کہتی ہے۔
وائرل ویڈیو میں سنا جا سکتا ہے کلاس ٹیچر طلباء کو ہدایات دیتی ہے کہ ’‘ تم اسے اتنا ہلکا کیوں مار رہے ہو؟ ، اسے زور سے مارو، اس کا چہرہ سرخ ہو رہا ہے اب اس کی پیٹھ پر مارو ’‘ جبکہ اس موقع پر بچہ کھڑا رو رہا ہوتا ہے۔
ویڈیو نے سوشل میڈیا پر غم و غصے کو جنم دیا اور کئی صارفین نے کہا کہ استاد کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق واقعہ کی ویڈیو وائرل ہونے بعد اترپردیش انتظامیہ حرکت میں آئی اور سکول کو بند کر دیا گیا ۔
حکام نے کہا کہ ’‘ نیہا پبلک اسکول ’‘ کو بند کردیا گیا ہے کیونکہ وہ محکمہ تعلیم کے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا جبکہ اسکول میں پڑھنے والے طلباء کو سرکاری اسکول یا دیگر قریبی اسکولوں میں منتقل کیا جائے گا۔
واقعہ میں ملوث ٹیچرکا کہنا تھا کہ وہ اپنے اعمال پر شرمندہ نہیں ہے جبکہ متاثرہ بچے کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اسے اس کا ٹائم ٹیبل غلط ہونے پر مارا پیٹا گیا۔









