تیونس (سپورٹس ڈیسک) افریقی ملک تیونس کی سابق ٹینس کھلاڑی نے دل دہلا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ ان کا کوچ کئی سال تک انہیں زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔
نجی ٹی وی کے مطابق تیونس کی سابق ٹینس کھلاڑی سلیمہ صفر نے بتایا کہ وہ ساڑھے 12 سال کی عمر میں شروع ہونے والا ریپ 3 سال تک جاری رہا۔ وہ نامعلوم خوف کے سبب اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کیخلاف آواز نہیں اٹھا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ جب وہ دارالحکومت میں ایک ایونٹ سے واپس گھر جا رہی تھیں تو راستے میں کوچ نے انہیں غیر مناسب انداز میں چھوا، انہیں سمجھ نہیں آئی کہ کیا ردعمل دیں۔ بعد میں کوچ انہیں اپنے گھر لے گیا جہاں اس کی بیٹی بھی موجود تھی مگر کوچ نے اپنی بیٹی کا بھی خیال نہ کرتے ہوئے انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
سلیمہ صفر کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ساتھ ہونیوالے اس سنگین جرم کو تسلیم کرنے میں 25 سال کا عرصہ لگا اور عوام کو بتانے میں 35 سال بیت گئے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ انسان نما درندے ریگیس ڈی کیمارٹ کو عصمت دری کا الزام ثابت ہونے پر 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔









