بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

خواتین انٹرپرینیورز کو آسان قرضے فراہم کرکے معاشی ترقی میں ان کا کردار بڑھایا جا سکتا ہے۔ احسن بختاوری

پاکستانی خواتین بے پناہ صلاحیتوں سے مالا مال ہیں ان کو سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔ محترمہ کورٹنی پاول
ویمن چیمبرز آف کامرس خواتین انٹرپرینورز کو فروغ دینے کیلئے اپنا فعال کردار اد اکر رہے ہیں۔ رضوانہ آصف
اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تعاون سے یو ایس سپیکرز سیریز کے سلسلے میں ایک تقریب منعقد کی جس میں خواتین انٹرپرنیورز کو کاروبار کرنے میں چیلنجز اور مواقعوں پر روشنی ڈالی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احسن ظفر بختاوری نے کہا کہ خواتین انٹرپرینیورز کو آسان قرضے فراہم کر کے معاشی ترقی میں ان کا کردار بڑھایا جا سکتا ہے لہذا انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس سلسلے میں اقدامات کرے۔انہوں نے کہا کہ خواتین پاکستان کی کل آبادی کا 51 فیصد ہیں اور معاشی سرگرمیوں میں ان کی بڑھ چڑھ کر شرکت معیشت کی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب خواتین کاروبار شروع کر کے معاشی طور بااختیار ہوتی ہیں تو اس سے ان کے خاندان خوشحال ہوتے ہیں اور معاشرہ بہتر ترقی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین کی طرف سے شروع کئے گئے چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری ادارے معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ وہ روزگار پیدا کرتے ہیں، قومی دولت میں اضافہ کرتے ہیں اور معاشرے کی سماجی بہبود کو بہتر بناتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو ایک مضبوط وینچر کیپیٹل انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے پالیسی اقدامات کرے تاکہ خواتین انٹرپرینیورز کو آسان قرضے فراہم ہوں کیونکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مجموعی قرضوں میں خواتین انٹرپرینیورز کا حصہ بہت معمولی ہے۔ اسی طرح خواتین کو مائیکرو فنانس قرضوں کی مد میں بھی بہت کم قرضہ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں کی تقسیم میں صنفی مساوات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے جس سے مزید خواتین انٹرپرینیورز کو فروغ دینے اور پاکستان میں اقتصادی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے میں مدد ملے گی۔
محترمہ کورٹنی پاول،چیف ایگزیکٹو آفیسر، 500 گلوبل اور 2015 کی USA کی گوگل بزنس لیڈر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی خواتین بے پناہ صلاحیتوں سے مالا مال ہیں اور انہیں کاروباری میدان میں آگے بڑھنے کیلئے ایک سازگار ماحول کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین انٹرپرینیورز کواسٹاک مارکیٹ سے فنڈز حاصل کرنے کی بہتر سہولت فراہم کی جائے تا کہ وہ اپنے کاروبار کو بہتر ترقی دے سکیں۔ انہوں نے پاکستان میں خواتین انٹرپرینیورز کو فروغ دینے کے لیے ویمن چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے کردار کو سرا ہا اور کہا کہ اگر خواتین کو بہتر فنانسنگ ماڈلرز فراہم کئے جائیں تو وہ کاروبار کے میدان میں کافی آگے بڑھ سکتی ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر اپنی زندگی کے تجربات بھی خواتین شرکاء کے ساتھ شیئر کئے۔
اسلام آباد ویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی صدر رضوانہ آصف نے کہا کہ خواتین کو سرمائے تک آسان رسائی کی عدم دستیابی پاکستان میں ان کیلئے سب سے بڑھا مسئلہ ہے جس وجہ سے پاکستان میں بہت کم خواتین کاروبار کر رہی ہیں۔ لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت خواتین انٹرپرینورز کا یہ اہم مسئلہ حل کرنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 25 خواتین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری خواتین انٹرپرینویرز کو فروغ دینے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں تاکہ ملک کی معاشی ترقی میں ان کے کردار کو بڑھایا جا سکے۔