اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف کیس میں جسٹس منیب اختر نے کہاکہ آرٹیکل 184(3)جوڈیشل پاور کا ہے،عدالت کو اپنے اختیارات استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی۔
نجی ٹی وی چینل کے مطابق سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی،پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سپریم کورٹ کی کارروائی براہ راست دکھائی گئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے سماعت کی،فل کورٹ میں سپریم کورٹ کے تمام 15ججز شریک ہوئے۔
دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ کیا سپریم کورٹ کی پاور کم ہوئی ہے یا چیف جسٹس کی؟خواجہ طارق رحیم نے کہاکہ پارلیمنٹ کے پاس قانون سازی کااختیار آئین سے مشروط ہے،رولز بنانے اور پریکٹس اینڈ پروسیجر کا اختیار سپریم کورٹ کو دیا گیا،جسٹس جمال مندوخیل نے کہاکہ آئین کے ساتھ قانون کو بھی کہا گیا ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ خواجہ صاحب کیا یہ قانون بنانا پارلیمنٹ کا دائرہ کار نہیں یا اختیار نہیں؟چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ خواجہ صاحب آپ جو باتیں کررہے ہیں اس پر الگ درخواست لے کر آئیں،جسٹس منیب اختر نے کہاکہ آرٹیکل 184(3)جوڈیشل پاور کا ہے،عدالت کو اپنے اختیارات استعمال کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی،جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اختیارات اور طاقت کا ذکر قانون میں نہیں، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہاکہ آپ یہ پوائنٹ نوٹ کرلیں،جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ بنچ کی تشکیل سے متعلق کمیٹی بنانے کا قانون جوڈیشل پاور دے رہا ہے یا انتظامی امور؟کیا پارلیمان انتظامی اختیارات سے متعلق قانون بنا سکتی ہے؟چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ آپ کے موکل کی کوئی ذاتی دلچسپی تھی یا عوامی مفاد میں درخواست لائے ہیں، خواجہ طارق رحیم نے کہاکہ یہ درخوست عوامی مفاد میں لائی گئی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ خواجہ صاحب آپ کی بحث کیا ہے، مجھے آپ کی بات سے یہ سمجھ آئی کہ اگر یہ سب فل کورٹ کرے تو درست ہے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آپ کے خیال میں یہ ایکٹ آئینی یا ہے غیرآئینی، مختصر بتائیں،وکیل طارق رحیم نے کہاکہ میرے نزدیک یہ ایکٹ غیر آئینی ہے، جس پر تحفظات رکھتا ہوں۔جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ کیا قانون سازی کے ذریعے چیف جسٹس کے اختیارات کو غیرموثر کیا جا سکتا ہے؟جسٹس محمد علی مظہر نے کہاکہ آپ یہ تو بتائیں کہ آئین کے کس آرٹیکل سے ایکٹ متصادم ہے،وکیل طارق رحیم نے کہاکہ سپریم کورٹ کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا حق کسی اور کو نہیں ہو سکتا۔









