اسلام آباد(نیوزڈیسک ) نگران وزیر نجکاری فواد حسن فواد کا کہنا ہے کہ جن اداروں کو منتخب حکومت نے نجکاری لسٹ میں ڈالا ان کو آگے بڑھائیں گے۔
نگران وفاقی وزرا کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے فواد حسن فواد نے کہا کہ دو دن سے پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ نگراں حکومت نے نجکاری کا عمل شروع کیا ہے، نگراں حکومت صرف تسلسل قائم رکھے گی جو چیزیں مکمل ہونی ہیں وہ ہوں گی، میں نے تو یہ بھی سنا فواد حسن فواد کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ پی آئی اے بند کر دو۔
فواد حسن فواد نے کہا کہ نگراں حکومت نجکاری کا کوئی کام نہیں کر رہی اور نہ آئین اختیار دیتا ہے، پی آئی اے قرضے لینے کی کوشش کر رہی تھی، ہم نے پی آئی اے کی مدد کی کیونکہ طیارے گراؤنڈ ہو رہے تھے، ہم جو آج کر رہے ہیں اس کا اختیار ہمیں منتخب حکومت دے کر گئی ہے، ہمارا کام نجکاری کے عمل کو جاری رکھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے دو سال میں جن اداروں کی نجکاری کے فیصلے ہو چکے وہ بھی رکے ہوئے ہیں، جو ادارے نجکاری کے عمل سے گزر چکے ان کی مکمل نجکاری میں رکاوٹیں دور کر رہے ہیں، نجکاری کیلیے تمام اداروں کی اپنی ایک ٹائم لائن ہے، جون سے اب تک پی آئی اے کے واجبات کلیئر نہیں تھے، نجکاری کیلیے گزشتہ حکومت قانون میں حق دے کر گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ فوری طور پر پی آئی اے کیلیے فنڈز کا انتظام کیا اور پی آئی اے پروازیں چلا رہی ہے، الیکشن کمیشن نے بھی واضح کر دیا جنوری کے آخری ہفتے میں الیکشن ہونے ہیں، ہم جنوری تک جو نجکاری کے پلان ہیں ان پر عمل درآمد کریں گے، کوشش کر رہے ہیں اداروں کا نقصان جلد سے جلد کم کیا جائے۔
وزیر نجکاری نے کہا کہ پاکستان اسٹیل کی نجکاری سے متعلق امور کا آج جائزہ لیا گیا، پاکستان اسٹیل کی نجکاری کیلیے چین کی 4 کمپنیوں نے دلچسپی لی تھی، اب 4 میں سے 3 سرمایہ کار پاکستان اسٹیل کی نجکاری میں دلچسپی نہیں رکھتے، ہم صرف اسٹیل ملز کی ملکیت کی زمین، مشینری اور اثاثے فروخت کرنا چاہتے ہیں، جو زمین اسٹیل ملز کی نہیں وہ نجکاری میں شامل نہیں ہوگی۔
اس موقع پر نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ تمام وسائل موجود، الیکشن کمیشن جب کہے گا انتخابات کرا دیں گے۔
انہوں نے کہا انتخابات کرانے کیلئے ہمارے پاس تمام وسائل موجود ہیں، الیکشن کمیشن کے اعلان پر اپنی خوشی کا اظہار کرتا ہوں، الیکشن کمیشن کا ادارہ قابل اور لائق لوگوں پر مشتمل ہے، یہ واحد ادارہ ہے جس نے صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرانے ہیں، پہلے امکان تھا کہ شاید لمبا عرصہ حلقہ بندیوں میں لگے گا۔
مرتضیٰ سولنگی نے کہا آج الیکشن کمیشن نے کہہ دیا ہے غالب امکان یہی ہے کہ جنوری کے آخری ہفتے میں انتخابات ہوں گے، الیکشن ایکٹ کے تحت انتخابی مہم کیلئے 54 دن دینے ہیں، حتمی تاریخ کا اختیار بھی الیکشن کمیشن کے پاس ہے، جس دن بھی الیکشن کمیشن انتخابات کرائے گا ہم مکمل طور پر تیار ہیں، تمام وسائل الیکشن کمیشن کو فراہم کریں گے۔
نگران وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تمام رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کو برابر مواقع حاصل ہوں، ہمارا سب سے بڑا چیلنج الیکشن کمیشن کی اعانت کرنا ہے، ہر حوالے سے ان کی ضروریات پوری کرنی ہیں، ہم اپنی ریاست کی پوری طاقت الیکشن کمیشن کے پیچھے کھڑی کریں گے۔
مرتضیٰ سولنگی نے کہا میرے پاس غیب کا علم نہیں ہے، نہیں کہہ سکتا کہ کل کیا ہوگا، کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ الیکشن میں تاخیر ہو، بجٹ میں الیکشن کیلئے پیسے موجود ہیں، کسی قسم کا مسئلہ نہیں، انتخابات کرانے کیلئے ہمارے پاس تمام وسائل موجود ہیں۔









