بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

خواجہ آصف نے جسٹس عائشہ ملک کیخلاف کردار کشی پر مبنی الزامات مسترد کر دیے

سابق وفاقی وزیر اور سینیئر لیگی رہنما خواجہ آصف نے سپریم کورٹ میں تعینات پاکستان کی پہلی خاتون جج جسٹس عائشہ ملک کے حوالے سے نامناسب دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اُن کی تقرری کے عینی شاہد ہیں۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر ایک وی لاگ میں جسٹس عائشہ ملک کی پیشہ ورانہ اور نجی زندگی سے متعلق دعوے کرتے ہوئے ان کی لاہور ہائیکورٹ میں تقرری کو سفارش کا نتیجہ قرار دیا گیا تھا۔

خواجہ آصف نے اس ایکس پوسٹ کو شیئرکرتے ہوئے کہا کہ عام حالات میں وہ اس پر تبصرہ نہ کرتے اور نہ ہی وہ جج صاحبہ کو ذاتی طور پرجانتے ہیں لیکن وہ اس پارلیمنٹری کمیٹی کے رکن تھے جس کے ذمہ جج صاحبان کی تقرری کنفرم کرنا ہوتی ہے۔

خواجہ آصف کے مطابق اس ویڈیو میں ’کہانی‘ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جب جج صاحبہ کا نام کمیٹی کے سامنے زیر بحث آیا تو ان کی سالانہ انکم ٹیکس کی ادا شدہ رقم غیرمعمولی زیادہ تھی جس سے سارے کمیٹی ممبر متاثر ھوئے۔ مجھے اس بات کی تصدیق کی ذمہ داری دی گئی جو میں نے کراچی کے ایک مشہور وکیل سے کی۔

سینیئر لیگی رہنما نے بتایا کہ ، ’وکیل موصوف نے نہ صرف جج صاحبہ کی پریکٹس کی تعریف کی بلکہ ان کی ایمانداری جو ٹیکس کی رقم سے عیاں تھی اس کی بھی شہادت دی‘۔

خواجہ آصف نے جسٹس عائشہ پرعائد الزامات کے حوالے سے مزید کہا کہ ، ’جج صاحبہ کی تقرری کا میں عینی شاہد ہوں۔ تقرری کے وقت پارلیمنٹری کمیٹی کے سامنے تمام ایجنسیوں کی رپورٹیں بھی ہوتی ہیں اور نجی و پیشہ ورانہ زندگی کی مکمل تفصیلات ہوتی ہیں‘۔

واضح رہے کہ صحافی نے اپنی ویڈیو میں الزام عائد کیا کہ کراچی سے تعلق رکھنے والی جسٹس عائشہ ملک کو پلاننگ کے تحت لاہور ہائیکورٹ اور پھرسپریم کورٹ کا جج تعینات کیا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ عائشہ ملک کے پاس کامرس میں گریجویشن کی ڈگری تھی ، ان کی شادی پھپھو زاد بھائی سے ہوئی جن سے طلاق کے بعد ہمایوں احسان سے شادی ہوئی جو پاکستان لاء کالج کے پرنسپل اور مالک ہیں، جسٹس عائشہ نے اسی لاء کالج سے گریجویشن کیا۔

ویڈیو میں مزید کہا گیا ہے کہ گریجویشن کے بعد جسٹس عائشہ سینیئر قانون دان فخرالدین جی ابراہیم کے چیمبراور کراچی میں قاضی صاحب کے چیمبرمیں بھی وابستہ رہیں۔ جسٹس شیخ عظمت سعید لاہور ہائیکورٹ کے سینیئرترین جج تھے جو جسٹس عائشہ کی صلاحیتوں سے متاثرہوئے اور چیف جستس ہائیکورٹ سے کہا کہ انہیں یہاں کا جج ہونا چاہیئے۔

صحافی نے مزید دعویٰ کیا کہ بعد ازاں شیخ عظمت سعید خود چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ تعینات ہوئے، جسٹس عمرعطا بندیال، جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس عمرعطابندیال نے جستس عائشہ ملک کی لاہور ہائیکورٹ میں تقرری کیلئے اس وقت کے چیف جسٹس افتخاراحمد سے سفارش کی کہ وہ انتہائی لائق فائق خاتون ہیں۔

ویڈیو میں مزید کہا گیا کہ اس وقت ہائیکورٹ میں تقرری کیلئے سپریم کورٹ کی انرولمنٹ کمیٹی کے سربراہ جسٹس شاکر اللہ جان تھے جو انٹرویو کے بعد لائسنس جاری کرتی ہے۔ وہاں قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دیگر امیدواروں کو چھوڑ کر کہا گیا کہ ان کی فائل پہلے لے آئیں۔