بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

 فرخ حبیب نے بھی تحریک انصاف سے راہیں جدا کرلیں،اپنی اگلی منزل بھی بتادی

لاہور: سابق وزیراعظم عمران خان کے قریبی سمجھے جانے والے پاکستان تحریک انصاف کے متحرک رہنما فرخ حبیب نے بھی پی ٹی آئی سے راہیں جدا کرلیں اور انہوں نے استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) میں شمولیت کا اعلان کردیا۔

فرخ حبیب استحکام پاکستان پارٹی کے مرکزی دفتر لاہور پہنچے جہاں انہو ں نے عون چوہدری کی موجودگی میں پی ٹی آئی سے علیحدگی کا اعلان کیا۔

استحکام پاکستان پارٹی کے رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے فرخ حبیب نے کہا کہ میڈیا نمائندگان کے ساتھ پرانا تعلق ہے، 9 مئی کے واقعات کے بعد ہم لوگ اپنے گھروں سے دور تھے اور قانون کا سامنا نہیں کر رہے تھے۔

فرخ حبیب نے کہا کہ کہ عمران خان نے عدم اعتماد کے بعد ہمیں اور پارٹی کارکنوں کو چین سے بیٹھنے نہیں دیا، چیئرمین پی ٹی آئی نے نوجوانوں کو پرامن مزاحمت کے بجائے پُر تشدد مزاحمت کی راہ پر ڈال دیا گیا حالانکہ تحریک عدم اعتماد کے بعد جمہوری طریقے سے جدوجہد کرنی چاہیئے تھی۔

پی ٹی آئی رہنما نے مزید کہا کہ عمران خان نے معصوم لوگوں کے جذبات کو بھڑکایا، 9 مئی کو جو کچھ ہوا اس کے حوالے سے چند لوگوں کو خاص ہدایات تھیں جس کا مجھے علم نہیں تھے۔

فرخ حبیب نے کہا کہ ماضی میں بھی لوگوں نے صبر کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کیا مگر آپ بیلٹ کے بجائے بُلٹ کا ذہن دیتے رہے، حالانکہ سیاسی رہنما ماضی میں بھی گرفتار ہوتے رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان مسلسل لوگوں کی ذہن سازی کرتے رہے، حالانکہ ایک وقت تھا جب عمران خان خود فوج کی تعریفیں کرتے تھے۔

فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ عمران خان خود کو جمہوری بھی کہتے تھے اور دوسری طرف سپورٹ بھی چاہیے تھی، 9 مئی کو سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ آئینی طریقے سے عدم اعتماد ہوا، خود احتسابی کا عمل بہت ضروری ہوتا ہے، یہ کوئی کفر اور اسلام کی جنگ نہیں، 5 ماہ کے دوران دماغ میں ایک سوچ موجود تھی۔

فرخ حبیب کا مزید کہنا تھا کہ ہم پاکستان کو حقیقی معنوں میں قائداعظم کا پاکستان بنانےمیں مصروف تھے، کچھ مخلص دوستوں نے مشکل وقت میں رہنمائی کی، پی ٹی آئی چیئرمین کو آئینی طور پر اقتدار سے ہٹایا گیا۔

اس موقع پر فرخ حبیب نے استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنما پرامن جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی نے کارکنوں کو 9 مئی کے سانحے کے لیے تیار کیا۔

فرخ حبیب نے یہ بھی کہا کہ توشہ خانہ کیس کے معاملے پر ہمیں ہدایات دی گئیں کہ میڈیا پر دفاع کیا جائے، ہم نے نواز شریف اور آصف زرداری پر تنقید کی مگر بعد میں پتہ چلا کہ عمران خان نے خود بھی فائدہ اٹھایا ہوا ہے۔

یاد رہے کہ لاہور کی عدالت نے آج ہی فرخ حبیب کی بازیابی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا ہے۔