غزہ پر وحشیانہ بمباری کے باعث ترکیہ نے اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا لیا۔
ترک میڈیا کے مطابق ترک وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ترک سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلایا گیا ہے۔
وزارت خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ سفیر کو غزہ میں اسرائیلی حملوں اور انسانی صورتحال پر واپس بلایا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق اسرائیل کا سفیر بھی سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے ترکیہ سے پچھلے ماہ واپس جا چکا ہے۔
اس سے قبل اردن اور بحرین بھی اسرائیل سے اپنے سفیروں کو واپس بلا چکے ہیں۔
دوسری جانب ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوغان نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیل کی غزہ میں کارروائیوں کی وجہ سے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے رابطہ ختم کر دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے نے ترکیہ میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ رجب طیب اردوغان نے ہفتہ کو کہا کہ ’نیتن یاہو سے ہم بات نہیں کریں گے۔ ان سے بات چیت خارج از امکان ہے۔‘
ترکیہ کے صدر کے بیان سے ایک ہفتہ قبل اسرائیل نے کہا تھا کہ وہ انقرہ سے اپنے تعلقات کا ’دوبارہ سے جائزہ‘ لے رہا ہے کیونکہ اسرائیل اور حماس کی جنگ کے حوالے سے ترکیہ کے بیانات کافی جارحانہ ہیں۔
اسرائیل ترکیہ سمیت دوسرے علاقائی ممالک سے سکیورٹی وجوہات کی وجہ سے اپنے سفارت کاروں کو بھی واپس بلا چکا ہے۔
گذشتہ مہینے 7اکتوبر کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس میں اسرائیلی حکام کے مطابق تقریباً 14 سو افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت شہریوں کی تھی اور 240 افراد کو یرغمال بنا لیا گیا۔
حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیلی فورسز نے غزہ کے سب سے بڑے شہر کا محاصرہ کیا ہوا ہے اور وہ حماس کو کچلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیلی طیاروں کی بمباری اور زمینی کارروائی کے نتیجے میں اب تک نو ہزار 400 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
اردوغان کے مطابق ایم آئی ٹی اینٹلیجنس کے چیف ابراہيم كالين ترکیہ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی کوشش اور ثالثی کے لیے معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔
’ابراہيم كالين اسرائیل سے بات کر رہے ہیں، وہ فلسطین اور حماس سے بھی بات مذاکرات کر رہے ہیں۔‘
تاہم ترکیہ کے صدر کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو تشدد کے بنیادی ذمہ دار ہیں اور وہ ’اپنے عوام کی حمایت سے محروم ہو چکے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ ایک قدم پیچھے ہیں اور یہ سب روک دیں۔‘









