بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ہسپتال میں خطرناک وائرس پھیلنے سے ایک ڈاکٹر جاں بحق،7 متاثر، ریڈ الرٹ جاری

کوئٹہ :بلوچستان کے شہر کوئٹہ کے ایک سرکاری ہسپتال میں کانگو کے متاثرہ مریض کا علاج کرنے والے آٹھ ڈاکٹر اور طبی عملے کے ارکان خود اس خطرناک مرض کا شکار ہو گئے اور ان میں سے ایک ڈاکٹر کی موت ہو گئی ۔
شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سول ہسپتال کے شعبہ میڈیسن میں رواں ہفتے دوران علاج مرنے والے تین مریض بھی اسی بیماری میں مبتلا تھے۔
دوسری جانب حکومت نے کوئٹہ میں کانگو وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کر دیا ۔
سیکریٹری صحت بلوچستان عبداللہ خان کا کہنا ہے کہ کانگو وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ماہرین کی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
سول ہسپتال کوئٹہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اسحاق پانیزئی نے اردو نیوز کو بتایا کہ یہ معاملہ چند روز قبل اس وقت سامنے آیا جب سول ہسپتال کے میڈیسن وارڈ اور آئی سی یو میں داخل تین مریضوں کی یکے بعد دیگرے موت ہوئی اور ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹر اور طبی عملہ بھی اچانک بیمار ہونے لگا۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ افراد کو جسم میں شدید بخار، درد، پلیٹ لیٹس میں تیزی سے کمی اور کچھ کو سانس لینے میں دقت جیسی علامات تھیں۔ ابتدائی طور پر معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ کون سا مرض ہے تاہم فوری طور پر متاثرین کو الگ تھلگ کیا گیا۔
ڈاکٹر اسحاق نے بتایا کہ اس کے ساتھ ہی محکمہ صحت نے نامعلوم پیتھوجین کی وبا پھیلنے کا الرٹ جاری کیا۔ مریضوں، تیمار داروں، ڈاکٹروں اور طبی عملے کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
سیکریٹری صحت بلوچستان عبداللہ خان کے مطابق انیٹگریٹڈ ہیلتھ مانیٹرنگ اینڈ ایمرجنسی رسپانس یونٹ اور پروینشل ڈیزیز سرویلنس اینڈ رسپانس یونٹ (پی ڈی ایس آر یو) نے فوری طور پر کام کرنا شروع کر دیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ شعبوں میں مزید مریضوں کے داخلے روک کر 18 متاثرین کے پی سی آر ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے آٹھ کے ٹیسٹ پازیٹیو آئے اور معلوم ہوا کہ یہ نامعلوم مرض کریمین کانگو ہیمرجک فیور (سی سی ایچ ایف) ہے جسے عرف عام میں کانگو کہتے ہیں جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔
محکمہ صحت کے ترجمان کے مطابق متاثرین میں ایک سینیئر کنسلٹنٹ سمیت پانچ ڈاکٹر اور طبی عملے کے تین ارکان شامل ہیں جنہیں بہتر علاج کے لیے سرکاری خرچ پر کراچی کے آغا خان ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے تاہم بدقسمتی سے ان میں سے ایک ڈاکٹر شکر اللہ کی دوران علاج موت ہو گئی ہے۔
سول ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اسحاق پانیزئی کے مطابق ہسپتال کے متاثرہ شعبوں کو وائرس سے پاک کرنے کے لیے سپرے لازمی ہے۔ اس لیے میڈیسن وارڈ اور آئی سی یو میں داخل 31 مریضوں کو شیخ زید ہسپتال میں قائم کیے گئے آئسولیشن وارڈ منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن بلوچستان کے صدر ڈاکٹر کلیم اللہ نے ڈاکٹر شکر اللہ کی موت کی ذمہ دار حکومت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں اگر صحت کی سہولیات ہوتیں تو انہیں کراچی منتقل کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ جہاں ڈاکٹروں کو علاج نہ ملے، اس صوبے میں عام مریضوں کا کیا حالت ہو گی خود اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کانگو کے مریض کو بچانے کے لیے خون اور پلیٹ لیٹس کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ ہم 100 ڈاکٹر لے کر خون اور پلیٹ لیٹس کے عطیے کے لیے سرکاری بلڈ بینک (ریجنل بلڈ سینٹر) گئے مگر وہاں پلیٹ لیٹس کے بیگ ہی دستیاب نہیں تھے۔
ڈاکٹر کلیم اللہ کے مطابق کوئٹہ میں سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو کراچی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو ایئر ایمبولینس ہی نہ مل سکی اور انہیں بذریعہ سڑک کراچی لے جایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ راستے میں لسبیلہ کے علاقے وندر میں ایمبولینس کو کوسٹ گارڈ کی چیک پوسٹ پر تین گھنٹے سے زائد روکا گیا۔ سیکورٹی اہلکاروں نے منت اور سماجت کے باوجود انہیں نہیں چھوڑا جس کی وجہ سے مریض ڈاکٹر شکر اللہ کی طبیعت بگڑ گئی اور ہسپتال پہنچتے ہی ان کی موت ہو گئی۔
ینگ ڈاکٹر ز ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں صحت کا شعبہ تباہ ہے، سرکاری ہسپتالوں میں بنیادی سہولیات دستیاب ہیں اور نہ ہی حفاظتی انتظامات پر توجہ دی جاتی ہے۔
اردونیوز کےمطابق سول ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ مرض انتہائی نگہداشت وارڈ میں انفیکشن پروینشن اینڈ کنٹرول (آئی پی سی ) کے مروجہ قواعد و ضوابط پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے پھیلا ہے۔
ان کے بقول آئی سی یو میں کام کرنے والے ڈاکٹر اور طبی عملے کے لیے حفاظتی کٹ، دستانے پہننے اورمریضوں کے علاج میں استعمال ہونے والے طبی آلات کو جراثم کش ادویات سے صاف کرنا لازمی ہوتا ہے۔ اسی طرح وائرل انفیکشن کے شکار مریضوں کو الگ تھلگ رکھنے اور ان کے زیراستعمال اشیا کو تلف یا جراثیم سے پاک کرنا ضروری ہوتا ہے۔