اسلام آباد(ممتازنیوز) سابق وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے کہاہے کہ موجودہ حالات میں سیاسی لیڈروں کاامتحان ہے، ہمارے پانچ بڑے لیڈرز اکٹھے بیٹھ جائیں توملک چل پڑے گا، نوازشریف کو چیئرمین پی ٹی آئی سمیت سب سے رابطہ کرناچاہئے، ان پر ذمہ داری ہے کہ مذاکرات میں پہل کریں۔نجی ٹی وی کودیئے گئے انٹرویومیں شاہدخاقان نے کہاکہ سیاست میں کچھ لوگ پیسہ بنانے آتے ہیں ، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ وہ کھڑے ہوتے جنہیں اقتدار کی پڑی ہوتی ہے ، ہمارے ہاں 70 کروڑلے کر سینیٹربنائے جاتے ہیں ،الیکشن بھی چوری ہوتے ہیں،سینیٹ میں آدھے سے زیادہ لوگ پیسے دے کر ایون میں بیٹھے ہیں،میراجھگڑاان سے ہے جوسینیٹ میں بیٹھنے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔انہوں نے کہاکہ سب جانتے ہیں ملک میں کون کرپٹ ہے، اس ملک میں لوگ جیلوں سے آکروزیراعظم بن جاتے ہیں،اقتدارمیں باربار ان لوگوں کو موقع دیاجاتا ہے،جو کرپشن میں ملوث ہیں، جی حضوری کرنے والے ،کرپٹ اور نااہل لوگوں کواقتدا رمیں بٹھایاجاتا ہے،لاڈلوں کا کاروبار چھوڑدیں ورنہ ملک آگے نہیں بڑھے گا،مائنس ون والے فارمولے نہیں چلتے۔ سابق وزیراعظم نے کہاکہ نوازشریف کو چیئرمین پی ٹی آئی سمیت سب سے رابطہ کرناچاہئے، نوازشریف پر ذمہ داری ہے کہ وہ مذاکرات میں پہل کریں۔ شاہدخاقان عباسی نے کہاکہ جنوری میں پارٹی عہدے سے استعفیٰ دےدیا تھا،ن لیگ میں میرے مزید کردار کی گنجائش نہیں،شہبازشریف سے ہی کہہ دیاتھاکہ پارٹی معاملات سے دوررکھیں، پارٹی کے اجلاس میں بلایا ہی نہیں گیا ،نوازشریف سے وطن واپسی پر ملاقات نہیں ہوئی، جب بھی پارٹی میں جنریشن تبدیلی آئے گی ،پارٹی چھوڑدوں گا ۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ انتخابات لڑنے کاقائل نہیں ہوں،آئندہ انتخابات سے انتشارمیں مزیداضافہ ہوگا،جن انتخابات کے نتائج مشکوک ہوجائیں ان سے امن نہیں ہوگا، اقتداربرائے اقتدار کی سیاست ملکی کی تباہی کا راستہ ہے انہوں نے کہاکہ فلسطین کے تنازعے کے حل تک اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں ہوسکتے،ایک ریاست نہتے لوگوں پرتوپوں اور لڑاکاطیاروں سے حملہ آور ہے، غزہ میں دس ہزار سے زائد افرادشہیدہوچکے،ان میں بچوں کی تعدا د زیادہ ہے،نہتے شخص کو کوئی بھی قتل کرے ،اس کی حمایت نہیں کی جاسکتی، بدقسمتی سے اسلامی دنیانے کوئی موقف نہیں اپنایا۔انہوں نے کہاکہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کی گئی تو ہم خاموش بیٹھے رہے، ہمیں بھارت سے سفارتی تعلقات ختم کردینے چاہئے تھے۔۔
مائنس ون والے فارمولےغیرموثر: 5 بڑے لیڈرز اکٹھے بیٹھ جائیں توملک چل پڑے گا، شاہدخاقان عباسی








