اسلام آباد(وقائع نگار) مسلم لیگ (ن) کے سیکرٹری جنرل وسابق وفاقی وزیر احسن اقبال اور ن لیگ کے رہنما دانیال عزیز کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور دانیال عزیز نے احسن اقبال کو پارٹی سیکرٹری جنرل کے عہدے سے ہٹانے کےلئے ن لیگ کی قیادت کو خط لکھ دیا ہے جس کی کاپی میڈیا کو جاری کردی گئی جبکہ احسن اقبال کے قریبی ذرائع نے دانیال عزیز کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سیاسی لوٹوں کو صوبائی اسمبلی کے ٹکٹ دلوانا چاہتے ہیں اس لئے احسن اقبال کے خلاف خط وکتابت کر رہے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق دانیال عزیز نے ن لیگ کی قیادت کو لکھے گئے اپنے خط میں کہا کہ احسن اقبال بلدیاتی حکومتوں کے بارے اپنے آپ کو عقل کل سمجھتے ہیں ،انہیں اس بات کا جواب دینا چاہئے کہ جب احسن اقبال چودھری قیمتوں کی نگرانی کرنے والی قومی کمیٹی کے سربراہ تھے ،تو پاکستان کی تاریخ میں ریکارڈ توڑ سب سے زیادہ مہنگائی کیوں ہوئی تھی جس کی وجہ سے مسلم لیگ نون ا کی شدید بدنامی ہوئی جبکہ غریب عوام کو کی کمر ٹوٹ گئی جو اب آئندہ الیکشن میں ووٹ کو اسی مہنگائی سے جوڑ رہے ہیں۔خط میں مزید کہا گیا کہ احسن اقبال کی نااہلی اور قیمتوں پر قابو پانے ناکامی نے ہماری جماعت کے ووٹ بنک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے غریب پاکستانیوں کی مشکلات میں زبردست اضافہ کیا ہے جبکہ ہماری حکومت کا قیمتیں برقرار رکھنے کے حوالے سے عوام میں شاندار ریکارڈ تھا جس کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے جو دوسری صورت میں کم قیمتوں کو برقرار رکھنے کے حوالے سے شاندار ریکارڈ رکھتا تھا۔پارٹی کو احسن اقبال کی اس ناکامی پر تمام عہدوں سے برطرف کرنا چاہئے لیکن افسوس اس بات پر ہے اس ناکام و بامراد شخص کو نا صرف سکریٹری جنرل کے عہدہ پر بحال رکھ گیا اور اس کی نا اہلی کی تحقیقات کرائی جاتی اب الیکشن قریب آرہے ہیں مسلم لیگ کو احسن اقبال کے دور ہونے والی بے پناہ مہنگائی کا عملا جواب عوام ووٹ نہ دے کر دیں گےکیونکہ احسن اقبال کی حماقتوں کا کوئی جواب ہمارے پاس نہیں ہے۔جب اس پر ردعمل کےلئے احسن اقبال کے قریبی ذرائع سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوں نے دانیال عزیز کے الزامات کو حقائق کے منافی قراردیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ احسن اقبال اور دانیال عزیز میں کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے ، احسن اقبال کی سوچ ہے کہ جن سیاسی رہنمائوں نے مشکل وقت میں پارٹی کو چھوڑا اب دانیال عزیز سابق ارکان پنجاب اسمبلی مولوی غیاث الدین اور اویس قاسم کو ن لیگ کا ٹکٹ دلوانا چاہتے ہیں جس کی احسن اقبال مخالفت کر رہے ہیں کیونکہ مولوی غیاث الدین نے مشکل وقت میں ن لیگ کا ساتھ چھوڑا، پہلے عثمان بزدار کی حمایت کی اور بعد میں پرویز الٰہی سے جاملے ، ان ذرائع کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ میں احسن اقبال سب سے پرانے ن لیگی ہیں اور ن لیگ کی قیادت ان پر اعتماد کرتی ہے اسی لئے پارٹی سیکرٹری جنرل کا عہدہ بھی دے رکھا ہے، ن لیگ کی قیادت کو بتا دیا گیا ہے کہ اگر سیاسی وفاداریاں بدلنے والوں کو ٹکٹ دیے گئے تو اس کا پارٹی کو نقصان ہوسکتا ہے ۔واضح رہے کہ 2018کے انتخابات میں دانیال عزیر نااہلی کے باعث الیکشن نہیں لڑ سکے تھے اور ان کی اہلیہ مہناز عزیز نے الیکشن لڑا تھا اور ن لیگ کے ٹکٹ پر مولوی غیاث الدین او اویس قاسم اس حلقے سے پنجاب اسمبلی کے ارکان منتخب ہوئے تھے لیکن بعد ازاں فارورڈ بلاک بنا کر تحریک انصاف کی حمایت کی تھی ۔
احسن اقبال اور دانیال عزیز میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے








