وزیر داخلہ گلگت بلتستان شمس لون نے چلاس میں بس پر فائرنگ کے واقعہ کو دہشتگردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پیچھے دشمن ملک بھارت کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ شاہراہ قراقرم پر دہشت گردی کے واقعہ میں 8 مسافر جاں بحق جبکہ 16 زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کا اسپتال میں علاج معالجہ جاری ہے۔
انہوں نے کہاکہ دہشت گردی کے واقعہ کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع کی طرف روانہ کی گئی ہے۔ اور گلگت شہر سمیت تمام اضلاع کی سیکیورٹی بھی سخت کر دی گئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کے واقعہ میں زخمی ہونے والے تمام افراد کا علاج مفت ہو گا۔
واضح رہے گلگت بلتستان کے دیامر ڈویژن میں چلاس سے متصل علاقے ہڈور پڑی کے سامنے شاہراہِ قراقرم پر نامعلوم افراد نے مسافر بس پر فائرنگ کر دی ہے جس کے باعث 8 افراد جھلس کر جاں بحق جبکہ 16 زخمی ہو گئے ہیں۔
ریسکیو حکام نے بتایا ہے کہ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے پیش آنے والے واقعہ میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کو ریجنل ہیڈکوارٹر اسپتال چلاس منتقل کر دیا گیا ہے۔
چلاس دہشتگردی واقعہ میں بھارت کا ہاتھ ہو سکتا ہے، وزیر داخلہ گلگت بلتستان








