واشنگٹن(ممتاز نیوز)امریکہ میں متعین پاکستانی سفیر مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیا کی سلامتی کی کلید ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کے تذویراتی مفاد میں ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے سے نتیجہ خیز طور پر وابستہ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی حکومت نے پاکستان کے حوالے سے ہند پر مبنی نقطہ نظر کو ترک کر دیا ہے لیکن جنوبی ایشیا کی سیکیورٹی اس امر کی متقاضی ہے کہ اسے ہند بحرالکاہل کے تناظر میں نہیں بلکہ اسے اپنے طور پر دیکھا جائے۔
مسعود خان نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور چین کے مابین کشمکش نہیں بلکہ نقطہ ملاپ ہونا چاہیے۔ ہم دونوں ممالک اور ان کی اپنی اپنی قابلیت کے شعبہ جات میں پاکستان میں سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
سفیر پاکستان نے یہ بات آج یہاں واشنگٹن ڈسی میں سنٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل سٹڈیز میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کا مستقبل کے موضوع پر بات کرتے ہوئے کہی۔
تقریب کی میزبانی سی ایس آئی ایس کے سینئر نائب صدر ڈینیل رونڈے نے کی۔ سابق سفیر رابن رافیل نے ابتدائی کلمات کہے۔
ایک ہائبرڈ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہ جس میں تھنک ٹینک کمیونٹی کے اراکین، سابق سفراء اور رائے ساز باقاعدہ طور پر شریک تھے اور ہزاروں ناظرین نے اس کو آن لائن بھی ملاحظہ کیا ۔سفیر پاکستان مسعود خان نے کہا کہ گذشتہ دو سالوں میں پاکستان اور امریکہ نے شعوری طور پر اپنے تعلقات میں ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے۔ ہم اس نئی بنیاد پر مزید تعمیر جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا موجودہ دور میں پاکستان اور امریکہ تعلقات کی نئی تال ہے جو نشیب و فراز کے چکر سے متاثر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دو سالوں میں ہم نے ہمہ جہتی اور بھرپور تعاون کا نمونہ بنانے میں پیش رفت کی ہے ۔ ہم نے گذشتہ سال میں ایک درجن سے زائد اعلیٰ سطحی مذاکرات کیے اور اس سال ہم اعلیٰ سطح کے سیاسی، اقتصادی، تجارتی، انسداد دہشت گردی اور دفاعی مذاکرات کی تیاری کر رہے ہیں۔
انہوں نے امریکہ میں موجود سمندر پار پاکستانیوں کے کردار کو بھی اجاگر کیا جن کی تعداد کا تخمینہ 10 لاکھ ہے اور جو پاکستان اور امریکہ کے درمیان پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں ایک بڑا سرمایہ کار ہے جہاں 80 امریکی کمپنیاں ، جن میں سے زیادہ تر فارچیون 500 کمپنیاں ہیں، اپنے کاروبار کو منافع بخش طریقے سے چلا رہی ہیں۔ انہوں نے اس امر کی بھی نشاندہی کی کہ امریکی نجی شعبہ بھی آئی سی ٹی اور متبادل توانائی میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اور مستقبل قریب میں شمسی اور ہوا سے بجلی کی پیداوار میں اس کا حصہ مزید بڑھے گا۔
سفیر پاکستان نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ امریکہ آئی ٹی، زراعت، توانائی اور معدنیات کے شعبہ جات جو کہ ہماری خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی ترجیحات میں شامل ہے میں سرمایہ کاری کرے اور ان شعبہ جات میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھائے۔
مسعود خان نے کہا کہ پاکستان معدنیات کے خزانے سے مالا مال ہے ۔ ہمارے پاس تانبے، سونا، لیتھیئم، نایاب زمینی عناصر، مینگنیز، نکل اور کوبالٹ کے ذخائر موجود ہیں۔ ہم سرمایہ کاروں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ ان معدنیات کو نکالنے کے سلسلے میں تعاون کریں اور انہیں ویلیو چینز کے ساتھ صنعتی استعمال کے لیے برؤے کار لائیں ۔
سفیر پاکستان نے زور دیا کہ پاکستان منرلز سیکیورٹی پارٹنرشپ (ایم ایس پی) کا رکن بننے کا اہل ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مسعود خان نے کہا کہ اگلے 20 سالوں میں پاکستان اور پاکستان کے ذریعے مغربی ایشیائی نصف کرہ ارض میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یو ایس ایڈ، ڈی ایف سی، ایگزم بینک اور ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ سفیر پاکستان نے کہا کہ کانگریس کی جانب سے جی ایس پی نظام کی بحالی پاکستانی مصنوعات کے لیے دروازے کھول دے گی۔
انہوں نے کہا کہ تذویراتی توازن برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے ملٹری سیلز ، ملٹری فنانسنگ اور اہم ساز و سامان کی فراہمی کی بحالی سے متعلق امریکی فیصلوں کے منتظر ہیں۔
اقوام متحدہ کی جانب سے ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہ جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ القاعدہ پاکستان میں سرحد پار سے حملوں کی حمایت کے لیے تحریک طالبان پاکستان کو افغانستان کے آٹھ کیمپوں میں تربیت دے رہی ہے، مسعود خان نے کہا کہ آئی ایس آئی ایس-کے اور ٹی ٹی پی پاکستان، امریکہ اور اتحادیوں کے لئے قوی خطرہ ہیں۔ ہمیں اس کے لیے مربوط حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔
قبل ازاں سابق سفیر رابن رافیل نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پاکستان ایک نتیجہ خیز ملک رہے گا جسے سمجھنے اور اس کے ساتھ ایک مضبوط پارٹنر استوار کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے ملک کو درپیش مختلف چیلنجوں پر بھی روشنی ڈالی جن میں اقتصادی مسائل اور موسمیاتی تبدیلیاں شامل ہیں اور جن سے ترجیحی بنیادوں پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔
سی ایس آئی ایس کے سینئر نائب صدر ڈینئیل رنڈے نے سفیر پاکستان کے ساتھ گفتگو کے دوران پاکستانی طلباء کے لئے امریکہ میں تعلیم کے زیادہ مواقع اور پاکستان کی سیکیورٹی ضروریات کو پورا کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
سفیر پاکستان مسعود خان نے امریکی تھنک ٹینکس اور ماہرین کا شکریہ ادا کیا جو سفارت کاری کے ذریعے امریکہ اور پاکستان کے مضبوط تعلقات ، سیکورٹی تعاون کے تسلسل، علاقائی استحکام اور عوامی تبادلوں کی وکالت کررہے ہیں ۔ انہوں نے میزبانی پر سی ایس آئی ایس کا بھی شکریہ ادا کیا۔
جنوبی ایشیا کی سلامتی کو انڈو پیسیفک حکمت عملی کےتناظر کی بجائے اپنے طور پر ترجیح دینے کی ضرورت ہے: مسعود خان








