بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

گُل فیروزہ پر آئی سی سی کا ضابطہ اخلاق توڑنے پر جرمانہ

پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کھلاڑی گُل فیروزہ پر آئی سی سی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر میچ فیس کا 10 فیصد جرمانہ عائد کردیا گیا۔

امپائر کے فیصلے سے اختلاف پر کارروائی

گُل فیروزہ کو پاکستان اور ہانگ کانگ کے درمیان دبئی میں کھیلے گئے ویمنز ایشیا کپ کے گروپ اے کے میچ کے دوران آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے آرٹیکل 2.8 کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا۔

آئی سی سی کے مطابق آرٹیکل 2.8 کا تعلق ’’بین الاقوامی میچ کے دوران امپائر کے فیصلے سے اختلاف کا اظہار کرنے‘‘ سے ہے۔

واقعہ پاکستان کی اننگز کے پانچویں اوور میں پیش آیا، جب گُل فیروزہ کو ایل بی ڈبلیو قرار دیا گیا۔

آؤٹ دیے جانے کے بعد گُل فیروزہ نے آن فیلڈ امپائر کے فیصلے پر اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے اپنے بیٹ کی جانب اشارہ کیا، جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ گیند ان کے بیٹ سے لگ کر گئی تھی۔

ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی شامل

آئی سی سی کے مطابق جرمانے کے علاوہ گُل فیروزہ کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی شامل کردیا گیا ہے۔

یہ 24 ماہ کے دوران گُل فیروزہ کا دوسرا جرم ہے، جس کے بعد اس مدت میں ان کے مجموعی ڈی میرٹ پوائنٹس کی تعداد دو ہوگئی ہے۔

گُل فیروزہ کو موجودہ سائیکل میں پہلا ڈی میرٹ پوائنٹ 23 جون کو آسٹریلیا کے خلاف آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیگ میچ کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر دیا گیا تھا۔

گُل فیروزہ نے جرم تسلیم کرلیا

گُل فیروزہ نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے آئی سی سی کی جانب سے تجویز کردہ سزا قبول کرلی۔

یہ سزا ایمریٹس آئی سی سی انٹرنیشنل پینل آف میچ ریفریز کی رکن سپریا رانی داس نے تجویز کی تھی، جس کے بعد باضابطہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

میچ آفیشلز نے چارج عائد کیا

آن فیلڈ امپائرز رباب احسن اور روکیہ سلطانہ، تھرڈ امپائر شیوینی مشرا اور فورتھ امپائر شاتھیرہ ذاکر نے گُل فیروزہ کے خلاف چارج عائد کیا تھا۔

آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کے تحت لیول ون کی خلاف ورزی پر کم از کم باضابطہ سرزنش اور زیادہ سے زیادہ کھلاڑی کی میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔

اس کے علاوہ ایسی خلاف ورزی پر ایک یا دو ڈی میرٹ پوائنٹس بھی دیے جاسکتے ہیں۔