بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

قومی ٹیسٹ اسکواڈ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں میرے لیے بھی سرپرائز تھیں، بابر اعظم

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم نے انکشاف کیا ہے کہ لارڈز میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کے بعد قومی اسکواڈ میں کی جانے والی بڑے پیمانے پر تبدیلیاں ان کے علم، مشورے یا منظوری کے بغیر کی گئیں۔ ایڈجبسٹن میں تیسرے ٹیسٹ میچ سے قبل ایک کشیدہ پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بابراعظم نے اسکواڈ کی تبدیلیوں پر انتہائی محتاط انداز اپنایا اور اس بات پر زور دیا کہ یہ نئے آنے والے کھلاڑیوں کے لیے ایک سنہری موقع ہے۔

بابراعظم نے اعتراف کیا کہ وہ بھی باہر کے عام لوگوں کی طرح اتنے ہی بے خبر تھے اور انہیں اسکواڈ میں اتنی بڑی تبدیلیوں کا علم تبھی ہوا جب پی سی بی کی جانب سے باضابطہ پریس ریلیز جاری کی گئی۔ بابراعظم نے کہا: یہ تبدیلی میرے لیے بھی ایک نئی خبر تھی۔ مجھے اس کا علم بعد میں ہوا۔ پی سی بی نے یہ فیصلہ کیا ہے، اس لیے وہی اس کی بہتر وضاحت کر سکتے ہیں۔ پی سی بی کا فیصلہ یقیناً کسی سوچ بچار کا نتیجہ ہوگا، بہتر ہوگا کہ آپ انہی سے پوچھیں کہ ایسا کیوں کیا گیا۔

لارڈز ٹیسٹ میں پاکستان کی شکست کے اگلے ہی دن، پی سی بی نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے اسکواڈ سے 7 کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ ہیڈ کوچ سرفراز احمد اور بولنگ کوچ عمر گل کو فارغ کر دیا ہے۔ ان کی جگہ 7 نئے کھلاڑیوں کو شامل کیا گیا، جن میں سے 5 کھلاڑیوں نے اس سے قبل کبھی ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلی ہے۔

اگرچہ بابراعظم نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ان فیصلوں نے ان کے لیے پورا ہفتہ مشکل بنا دیا تھا، تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ اس پر “حیران” ضرور تھے۔ پاکستان کے (کاغذی) سلیکشن کے ڈھانچے کے مطابق ایک کپتان ہونے کے ناتے انہیں اس طرح کی فیصلہ سازی میں شامل ہونا چاہیے تھا۔ اسی طرح انہوں نے پی سی بی کے گزشتہ ہفتے کے اس اعلان پر بھی مزید کچھ بولنے سے معذرت کی جس میں بورڈ نے ڈسپلن اور نامناسب رویے سے متعلق میڈیا رپورٹس کے بعد اندرونی تحقیقات شروع کرنے کا کہا تھا۔

اس کے برعکس بابراعظم نے اپنے نئے ٹیسٹ کوچز مائیک ہیسن (Mike Hesson) اور ایشلے نُوفکے (Ashley Noffke) کی باتوں کا اعادہ کیا اور ماضی میں کیا ہوا یا اس دورے کے بعد کیا ہوگا، اس پر بحث کے بجائے تمام تر توجہ اس ہفتے ہونے والے ٹیسٹ میچ پر مرکوز رکھی۔ بابراعظم نے کہا: “سیریز ہم ہار چکے ہیں لیکن اب ہمارے پاس کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ ہمیں کھل کر کھیلنا چاہیے اور بطور ٹیم خود پر اعتماد رکھنا چاہیے۔ ہم نے چند دن پریکٹس کی ہے اور نئے لڑکوں کو تمام چیزیں سمجھا دی ہیں۔ جب بھی کوئی نیا اور جوان کھلاڑی ٹیم میں آتا ہے تو وہ پرجوش ہوتا ہے اور وہ جوش واضح نظر آتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ جذبہ میچ کے دوران بھی نظر آئے گا۔

لارڈز میں 194 رنز کی شکست کے بعد پاکستان کے ہائی پرفارمنس ڈائریکٹر عاقب جاوید نے سیریز کے دوران کی جانے والی سلیکشن پر شدید تنقید کی تھی۔ تاہم بابراعظم نے پہلے دو ٹیسٹ میچوں میں ٹیم کے فیصلوں کا دفاع کیا۔

انہوں نے کہا:ہم نے بطور ٹیم تینوں شعبوں میں اچھی کرکٹ نہیں کھیلی، اور جب نتائج نہیں ملتے تو باہر سے تنقید بھی بہت ہوتی ہے۔ لیکن ہم نے اس وقت وہی کیا جو ہمیں بہترین لگا۔ ہم نے پچ اور حالات کا جیسا جائزہ لیا، اس کے مطابق جو بہترین پلےئنگ الیون بنتی تھی ہم اسی کے ساتھ میدان میں اترے۔ لیکن بدقسمتی سے ہمیں وہ نتائج یا کارکردگی نہیں مل سکی جس کی ہم خود سے توقع کر رہے تھے۔

اسکواڈ میں نئے چہروں کی بڑی تعداد کے باعث پاکستان کی فائنل پلئینگ الیون کا اندازہ لگانا ہر کسی کے لیے مشکل ہے، تاہم بابراعظم کا کہنا تھا کہ میدان میں کارکردگی دکھانے کی بھاری ذمہ داری ٹیم کے سینئر ارکان پر عائد ہوتی ہے۔ ان میں خود بابراعظم بھی شامل ہیں، جنہوں نے لارڈز میں 8 اور 6 رنز بنائے تھے، جبکہ ہاتھ کی چوٹ کے باعث وہ ہیڈنگلے میں پہلا ٹیسٹ نہیں کھیل سکے تھے۔ موجودہ اسکواڈ کے دیگر تمام ارکان کی طرح انہوں نے بھی اس سے قبل ایڈجبسٹن میں کبھی ٹیسٹ میچ نہیں کھیلا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: جب بھی آپ کسی سیریز یا ٹورنامنٹ میں جاتے ہیں تو کارکردگی دکھانے کے لیے خود پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ایک سینئر کھلاڑی کے طور پر آپ کو زیادہ ذمہ داری اٹھانی پڑتی ہے۔ میرا پختہ ایمان ہے کہ آپ کو موقع کا فائدہ اٹھانا چاہیے اور مشکل حالات میں پرفارم کرنا چاہیے۔ ہم کرکٹ کھیلتے ہی اسی لیے ہیں کہ مشکل ترین حالات میں پرفارم کریں اور چھائے رہیں۔ ہمیں ماضی کی ناکامیوں کو بھول کر اپنی تمام تر توجہ انے والے مستقبل پر مرکوز کرنی ہوگی۔