بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

خالد مقبول صدیقی کا مساجد کو تعلیمی مراکز بنانےاور 15 کروڑ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے عزم کا ویژن

اسلام آباد: وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت خالد مقبول صدیقی نے اعلان کیا ہے کہ حکومت غیر رسمی، رسمی اور فنی تعلیم کے ذریعے ملک کے 15 کروڑ نوجوانوں کو ایک قیمتی قومی و عالمی اثاثہ بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یومِ خواندگی کے موقع پر منعقدہ ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں شرحِ خواندگی کا کم ہونا ایک بڑا چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر نئے راستے اختیار کرنا ہوں گے۔ انہوں نے ایک تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں قائم مساجد کے وسیع نیٹ ورک کو اشراق سے ظہر کے وقت تعلیمی مراکز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے تاکہ بچوں اور نوجوانوں کو مختصر دورانیے کی تعلیم فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ 18ویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبوں کی ذمہ داری ہے تاہم وفاق پالیسی سازی کا اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔

تقریب سے جائیکا (JICA) پاکستان کے نائب کنٹری ریپریزنٹیٹو تاکایوکی سُوگا وارا نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا ادارہ آقال (AQAL) پروجیکٹ اورایچ ون، ٹیچ ون جیسے جدید ماڈلز کے ذریعے اسکولوں سے باہر بچوں اور بالغ افراد کو معیاری تعلیم و روزگار سے جوڑ رہا ہے۔ اس موقع پر یونیسف کی نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ، یونیسکو کے فؤاد پاشائیوف، چیئرمین این سی ایچ ڈی صادق افتخار اور وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے بھی تعلیمی مشن کو آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔

صوبائی نمائندوں نے بھی تعلیمی اعداد و شمار پیش کیے۔ بلوچستان میں صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ درانی کے مطابق شرحِ خواندگی 42 فیصد سے بڑھ کر 49 فیصد ہو چکی ہے جبکہ اسکول سے باہر بچوں کی تعداد کم ہو کر 45 فیصد رہ گئی ہے۔خیبر پختونخوا ایڈوائزر میاں سعد الدین نے بتایا کہ کے پی کے میں شرحِ خواندگی 51.09 فیصد ہے اور 34 ہزار اسکولوں میں 5.9 ملین بچے زیرِ تعلیم ہیں۔گلگت بلتستان جی بی کے نمائندے کے مطابق 3,149 تعلیمی اداروں کے ساتھ خطے میں شرحِ خواندگی 86 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔آزاد کشمیر آزاد کشمیر کے نمائندے نے 2 لاکھ 60 ہزار بچوں کو اسکولوں میں لانے کے لیے 52 ملین روپے کے فنڈز اور تعلیمی اقدامات کا ذکر کیا۔وفاقی وزیر نے آخر میں تمام تعلیمی اداروں، سول سوسائٹی اور عالمی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ ایک قومی جدوجہد کے طور پر خواندگی کے فروغ کے لیے یکجا ہو کر کام کریں۔