بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نئی مردم شماری، پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نےساتویں قومی مردم و خانہ شماری کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اس معاملے پر سندھ کی جانب سے مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کا اجلاس جلد بلانے کا مطالبہ کیا جائے گا ۔
نجی ٹی وی کے مطابق مشترکہ حکمت عملی کے حوالے سے دونوں سیاسی جماعتوں کی قیادت کے درمیان ابتدائی بات چیت ہوچکی ہے ، دونوں جماعتیں نہ صرف اس بات پر متفق ہیں کہ آئندہ عام انتخابات نئی مردم شماری کے بعد ہونے چاہئیں بلکہ مردم شماری کے پرانے ’ڈی جیور‘ طریقہ کار پر دونوں جماعتوں کو اعتراض ہے، گنتی کے اس طریقہ کار کے تحت لوگوں کا شمار مستقل رہائشی پتہ پر ہوتا ہے۔
پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کا مشترکہ بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ’ڈی فیکٹو‘  طریقہ کے مطابق لوگوں کی گنتی کی جائے یعنی لوگ جہاں رہتے ہیں، وہیں ان کا شمار کیا جائے ، پرانے طریقہ کار کے مطابق سندھ میں رہنے والے دیگر صوبوں کے لوگوں کو اس لئے شمار نہیں کیا جاتا کہ ان کے شناختی کارڈز پر ان کا مستقل رہائشی پتہ سندھ کا نہیں ہوتا ۔ دونوں سیاسی جماعتیں یہ مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ ایسے لوگوں کو وہیں شمار کیا جائے ، جہاں وہ مردم شماری کے وقت موجود ہوں۔
پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے علاوہ جماعت اسلامی اور سندھ کی دیگر جماعتوں کا بھی یہی مطالبہ ہے اور وہ بھی مسلسل یہی کہتی رہی ہیں کہ سندھ کی آبادی کو بہت کم شمار کیا گیا ہے حالانکہ سندھ ان لوگوں پر اخراجات کرتا ہے ۔ آبادی کم شمار ہونے کی بنا پر قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں سندھ کو مالیاتی وسائل میں کم حصہ ملتا ہے۔
سندھ کی طرف سے نئی مردم شماری کے انعقاد کے لیے نیا ورکنگ پیپر تیار کرانے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا، یہ ورکنگ پیپر سی سی آئی سے منظور کرایا جائے گا۔