پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل باجوہ نے یہ پیغام دیا تھا کہ اگر ایکسٹینشن نہ ہوئی تو مارشل لا بھی لگ سکتا ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عرفان صدیقی نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن میں نوازشریف کی قیادت پر سب متفق ہیں، ہماری جنرل پالیسیز کے بارے میں بھی پارٹی میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں کسی اور کے بیان کی تردید یااختلاف کرنے سے گریز کرتا ہوں، جاوید لطیف نے جو کچھ کہا ہے ان کے پاس کوئی شواہد بھی ہوں گے، لیکن نواز شریف کاراستہ روکنے کی باتیں بالکل بے بنیاد ہیں
نوازشریف کے وزارت عظمیٰ قبول نہ کرنے کا واحد سبب نوازشریف خود ہیں، قائد ن لیگ نے فیصلہ کیا تھا کہ اس بار وزارت عظمی کیلئے میں نہیں بلکہ شہبازشریف نے آنا ہے اور شہبازشریف کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ بھی نواز شریف کا تھا۔
رہنما ن لیگ نے کہا کہ آج بھی پاکستان میں نوازشریف کی حکومت ہے،ہمارے قائد اقتدار کے بھوکے نہیں ہیں ،اگر وہ چوتھی بار وزیراعظم بننا چاہتے تو ایک سیکنڈ نہیں لگنا تھا، ان راستے میں پیپلز پارٹی رکاوٹ تھی نہ شہبازشریف اورنہ ہی کوئی اور ، بلکہ وہ خود وزیراعظم نہیں بننا چاہتے تھے ۔
عرفان صدیقی کا مزید کہنا تھا کہ جنرل باجوہ نے ایکسٹینشن کی خواہش ظاہر بھی کی اور پیغام بھی بھیجا تھا ، سابق آرمی چیف نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایکسٹینشن نہ ہوئی تو مارشل لا بھی لگ سکتا ہے،پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نوازشریف نے جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کی مخالفت کی تھی۔
باجوہ نے پیغام دیاتھا ایکسٹینشن نہ ہوئی تو مارشل لا لگ سکتا ہے،عرفان صدیقی








