بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سپریم کورٹ نوٹس،واوڈا معافی مانگیں گے یا نااہلی کا سامنا کرینگے؟

اسلام آباد (طارق محمود سمیر) سپریم کورٹ کی طرف سے سابق وفاقی وزیراور آزاد سینیٹرفیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کا از خودنوٹس لے لیاگیا اور چیف جسٹس کی سربراہی
میں تین رکنی بنچ جمعہ کو اس کی سماعت کرے گا، فیصل واوڈا نے گزشتہ روز اپنی پریس کانفرنس میں اسلام آبادہائی کورٹ کے جج جسٹس بابرستارکو مختلف حوالوں سے تنقید کا نشانہ بنایاتھا اور بعض دھمکی آمیز الفاظ استعمال کیے تھے،نیب ترامیم سے متعلق حکومتی اپیل کی سماعت کے د وران سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ نے فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس پر ریمارکس دیئے اور کہا کہ پگڑی کوفٹبال بنانے جیسے الفاظ استعمال کئے گئے،گزشتہ کئی دنوں سے اسلام آباد ہائی کورٹ اور حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے، جسٹس بابرستارنے جب سے آڈیولیکس کیس کو آگے بڑھایاہے اور ان کیمرہ سماعت کرنے کے پیغام کے بعد جسٹس بابرستارکی طرف سے چیف جسٹس کو خط لکھنے کے بعد فیصل واوڈا گورنرسندھ کامران ٹیسوری ،طلال چودھری ،ایم کیوایم کے مصطفیٰ کمال،آئی پی پی پارٹی کے عون چودھری،ن لیگ کے بعض دیگررہنمائوں نے بھی پریس کانفرنسز کی ہیں اور عدلیہ کے بعض فیصلوں پر تنقیدکی ہے اور ججو ں کی تقرری کے طریقہ کار کو بھی نشانہ بنایاہے،فیصل واوڈا کے بارے میں یہ تاثر عام ہے اور جس کا وہ خود بھی اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے بہت قریب ہیں اور ٹی وی چینلزپر بیٹھ کر اسٹیبلشمنٹ کے نقطہ نظر کا کھل کر دفاع کرتے ہیں اور انہیں سندھ سے آزاد سینیٹر منتخب کرانے میں بھی اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ تھا تاہم گزشتہ روز انہوںنے پریس کانفرنس میں دھمکی آمیز اور معنی خیزالفاظ استعمال کئے اور ان کے ان الفاظ کی وجہ سے ہی ازخود نوٹس لیاگیاہے اب دیکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں یہ کیس کیارخ اختیارکرتا ہے کیا فیصل واوڈا فوری طور پر معافی مانگیں گے ،اگرمعافی نہ مانگی تو پھر انہیں بھی طلال چودھری اور دانیال عزیز کی طرح کہیں پانچ سال نااہلی کا سامناتو نہیں کرناپڑیگا۔علاوہ ازیں قومی اسمبلی میں ق لیگ کے رہنما طارق بشیرچیمہ کے تحریک انصاف کی خاتوں رہنما زرتاج گل کے بارے میں غیراخلاقی اور نازیبار ریمارکس پر ایوان میں شدیدہنگامہ آرائی ہوئی زرتاج گل ایوان میں رو پڑیں اور طارق چیمہ کو پیپلزپارٹی کے آغارفیع اللہ تحریک انصاف کے ارکان سے بچا کر ایوان سے باہرلے گئے یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ ایک سیاسی رہنما جو وفاقی وزیربھی رہ چکاہو،وہ ایک خاتون پارلیمنٹرین کے بارے میں غلیظ اور نازیبازبان استعمال کرے، طارق چیمہ ماضی میں بھی اسی طرح کی تلخیاں پیداکرتے رہے ہیں ایک بار جب عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آئی اور ق لیگ کے اندر اختلاف پیداہواتو ایک ٹی وی پروگرام میں وہ چودھری شجاعت حسین کے بھائی چودھری وجاہت حسین سے الجھ پڑے تھے جب کہ بہاولپور یونیورسٹی کے ایک سکینڈل میں ان کی فیملی کا ذکرآتارہابعدازاں تمام جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ سپیکرکے چیمبر میں جمع ہوئے اور زرتاج گل سے طارق چیمہ نے معافی مانگی تحریک انصاف کے ارکان یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ بجٹ سیشن کے دوران طارق چیمہ کی رکنیت معطل کی جائے واضح رہے کہ صدرآصف زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کے موقع پر تحریک انصاف کے رہنماوں اقبال آفریدی اور جمشید دستی کی رکنیت کو بھی نازیباحرکات کرنے پر معطل کیاگیاتھا۔پارلیمنٹ کے اندرعوامی مسائل پر بات ہونی چاہئے لیکن جس طرح کا ماحول آج پیداکیاگیاماضی میں ایسانہیں ہواخواتین چاہے جس پارٹی سے بھی تعلق رکھتی ہوں ان کے بارے میں منفی ریمارکس دینانہ تو اسلام اجازت دیتاہے اورنہ ہی ہمارامعاشرہ،وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور بھی ماضی میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکے بارے میں قابل اعتراض زبان استعمال کرتے رہے ہیں جس پر انہیں کافی تنقید کاسامنا کرنا پڑا۔