اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا ہے کہ حکومت کو آپشن دے دیا ہے، وہ الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرے، اداروں سے بات چیت ہوئی نہ گارنٹی دی۔
صحافیوں سےگفتگو کے دوران انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر ہم اسلام آباد میں بیٹھ جاتے تو معیشت کو مزید مسائل پیش آتے، حکومت سب سے پہلے الیکشن کی تاریخ کا اعلان کرے اور ایجنڈہ بتائے۔
اسد قیصر نے کہا کہ ہم نے حکومت کو ایک آپشن دے دیا ہے، ہمیں کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی ہے، اداروں سے کوئی بات چیت ہوئی نہ گارنٹی دی۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں کسی کو روکا، نہ گرفتاریاں کیں، تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی پارٹی ہے، عمران خان ملک کا مقبول ترین لیڈر ہے، عوام نے کل لانگ مارچ کا پرتپاک استقبال کیا۔
ایک سوال کے جواب میں سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ پشاور میں کسی کے ساتھ ہماری ڈسکشن نہیں ہورہی ہے، عدالت پر اعتماد ہے اور وہیں ہم اپنا مؤقف دیں گے۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ حکومت سازش کے تحت بنی ہے، دیکھتے ہیں کہ حکومت کب کمیٹی کا اعلان کرتی ہے۔اسد قیصر نے کہا کہ حکومت کمیٹی بنا کر ایجنڈہ دے پھر ہم بات چیت کریں گے، ہم پارلیمنٹ سے مستعفی ہو چکے ہیں۔
عمران خان کےقریبی دوست کی برطانوی وزیراعظم سے پاکستان میں مداخلت مطالبے کی ویڈیووائرل
لندن ( مانیٹرنگ ڈیسک ) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی دوست اور یورپ اور برطانیہ کے لئے ان کے فوکل پرسن صاحبزادہ جہانگیر عرف چیکو گزشتہ روز تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے دوران راستوں کی بندش پر برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے مداخلت کی اپیل کرتے رہے جس کی ویڈیوسوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔صاحبزادہ جہانگیر عرف چیکو کا کہنا تھاکہ ہم انسانی حقوق کمیشن اور برطانوی وزیراعظم بورس جانسن سے اپیل کرتے ہیں کہ پاکستان میں مداخلت کریں، آپ قتل عام پر خاموش نہیں رہ سکتے۔
عمران خان کےقریبی دوست کی برطانوی وزیراعظم سے پاکستان میں مداخلت کے مطالبے کی ویڈیووائرل
عمران خان کےقریبی دوست کابرطانوی وزیراعظم سے پاکستان میں مداخلت کے مطالبہ،ویڈیووائرل
افغانستان، طالبان حکومت نے بھارت کو بڑی پیشکش کردی
کابل(مانیٹرنگ ڈیسک) طالبان حکومت نے بھارت کو کابل میں دوبارہ سفارتخانہ کھولنے کی پیشکش کردی ۔قطر میں قائم طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے بھارتی ادارے کو دیئے گئے انٹرویو میں بھارت کو کابل میں سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سفارتی عملہ کو افغانستان میں مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بہت سے سفارت خانے کام کررہے ہیں اور انہیں بھرپور سیکورٹی دی گئی ہے، افغانستان میں کام کرنے والے تمام غیرملکی سفارتکاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرنا ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے۔
سہیل شاہین نے کہا کہ بھارت کو قومی اور باہمی مفادات کی بنیاد پر موجودہ طالبان حکومت سے تعلقات قائم کرنے چاہیے، اگر بھارت افغانستان میں جاری منصوبے مکمل کرنا چاہے گا یا نئے منصوبے شروع کرنا چاہے گا تو اس کا خیر مقدم کریں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کو سابق افغان حکام سے روابط نہیں رکھنے چاہیے۔









