بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

چیف جسٹس کے خلاف مہم چلائی جارہی ہے، قتل کے فتوے جاری کیے جارہے ہیں، عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ کل سے چیف جسٹس کے خلاف ایک مہم چلائی جارہی اور قتل کے فتوے جاری کیے جارہے ہیں۔

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کے خلاف انعام کے طور پر رقم کا اعلان کیا جارہا ہے کہ اتنی رقم دی جائے گی جو ان کا سر قلم کر کے لائے گا تو کس نے ان کو اختیار دے دیا کہ وہ سر قلم کرنے کے اعلانات کرتے پھریں اور کیا یہ دین اسلام کو سمجھتے بھی ہیں کہ ایسے اعلانات کرنے شروع کردیے، جو لوگ یہاں موجود ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ عقیدہ ختم نبوت ﷺ کے بغیر دین نا مکمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی پریس ریلیز جاری کی گئی جس کے اوپر واضح لکھا ہے کہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ کے اوپر ایمان کامل کے بغیر کوئی مسلمان نہیں ہوتا، جب یہ پریس ریلیز جاری کی گئی تو پھر اس بات کی کیا گنجائش ہے کہ قتل کے فتوی جاری کیے جائیں اور عقیدے پر تحفظات کا اظہار کیا جائے؟ یہ بتائیں کہ یہ حق کس نے دیا آپ کو؟ آپ کونسی دینی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں، یہ اب مذمت سے آگے کا کام ہے، یہ رواج شروع ہوگیا ہے کہ سر قلم کرو اور پیسے لے لو تو ایسے لوگوں کو روکا جائے گا، ہم ایسے لوگوں کے سامنے دیوار بن کے کھڑے ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے پیچھے سیاسی مقاصد ہیں، کل جو فتوی جاری ہوا یہ سیاسی بنیادوں پر کیا گیا، ان کا اپنا مکتبہ فکر کیا ہے؟ میرے بزرگوں نے جو کردار ادا کیا تاریخ میں اور وہ کاربند رہے اس معاملے پر، قاضی فائز کے والد قائد اعظم کے ساتھی تھے، ان کے دادا نے بھی مسلمانوں کےلیے خدمات فراہم کیں، بغیر تحقیق کے، بغیر پریس ریلیز کو دیکھے قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، قانون کو نافذ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے، جو کیا گیا ہے اس پر ایف آئی آر بھی درج ہوئی ہے، اس کی کوئی گنجائش نہیں ہمارے معاشرے میں کہ سیاسی مقاصد کے لیے ایسے اعلان کیے جائیں۔

عطا تارڑ نے سوال کیا کہ کیا خالی آپ ہی دین اسلام کے علمبردار ہیں؟ کیا باقی سب کو آپ نے دین اسلام سے کارج کردیا کیا ہمارا حق نہیں اسلام پر بات کرنے کا؟ کیا یہ صرف آپ کا حق ہے؟ اس کی سخت مذمت ہم کرتے ہیں اور کسی کو قانون کو ہاتھ میں نہیں لینے دیے جائے گا، منصف اعلی کے بارے میں ایسے الفاظ بولنا قانونی اور اخلاقا جرم ہے۔

بعد ازاں حنیف عباسی نے کہا کہ بچہ بچہ آپ ﷺ کے نام پر کٹ مرنے کو تیار ہوجاتا ہے، یہاں تو تاریخ بھری پڑی ہے کہ کیسے نوجوانوں نے آپﷺ کے ناموس پر جانیں قربان کی ہیں، پاکستان میں انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی،