بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دائرہ کار کو مزید بڑھانا ہوگا،صدرمملکت

اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے کہاہےکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دائرہ کار کو مزید بڑھانا ہوگا۔
صدرمملکت کو  چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام روبینہ خالد نے بریفنگ دی۔ صدرمملکت کو بتایاگیاکہ بے نظیر کفالت ، تعلیمی وظائف ، اسکالرشپس برائے انڈر گریجویٹ اور نشو نما پروگرام بارے بریفنگ دی گئی ۔ بریفنگ میں بتایاگیاکہ رواں مالی سال کے دوران انکم اسپورٹ پروگرام کیلئے 598.718 ارب روپے مختص کیے گئے ، بے نظیر کفالت پروگرام فلیگ شپ پروگرام ہے، کفالت پروگرام کے تحت پاکستان بھر میں اہل خواتین اور خواجہ سراؤں کو غیر مشروط نقد رقم فراہم کی جارہی ہے ، بے نظیر کفالت پروگرام کیلئے مالی سال 2024-25 کے دوران 93 لاکھ اہل خاندانوں کے لیے 461 ارب روپے مختص کیے گئے ، سکولوں میں داخلے بڑھانے ، کم آمدنی والے گھرانوں کے بچوں کو تعلیم کی فراہمی کیلئے 77.18 ارب روپے مختص کیے گئے ، بریفنگ میں بتایاگیاکہ بے نظیر تعلیمی وظائف پروگرام سے 97 لاکھ بچے مستفید ہو سکیں گے ،سکالرشپس برائے انڈر گریجویٹ پروگرام کے تحت 10 ہزار طلباء کو وظائف کی فراہمی کیلئے 1.7 ارب روپے مختص کیے گئے ، غذائیت کی کمی اور نشوونماکے مسائل سے نمٹنے کیلئے 20 لاکھ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین اور انکے شیر خوار بچوں کو خصوصی خوراک بھی فراہم کی جا رہی ہے،2022 میں سیلاب کے دوران، بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام نے پاکستان بھر میں سیلاب سے متاثرہ 27 لاکھ خاندانوں میں 70 ارب روپے تقسیم کیے ،صدر مملکت نے معاشرے کے مستحق اور پسماندہ طبقے کو مالی ریلیف فراہم کرنے پر بے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کو سراہا۔
اس موقع پرصدرمملکت نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دائرہ کار کو مزید بڑھانا ہوگا، پسماندہ طبقات کی فلاح کیلئے پروگرام کے مستفیض افراد کی تعداد بڑھائیں۔صدر مملکت نےبے نظیر انکم اسپورٹ پروگرام کا گوادر میں دفتر قائم کرنے کی ہدایت کی۔انہوں نے بینکوں کی جانب سے بے نظیر کارڈ ہولڈرز سے 0.45 فیصد سروس چارجز کٹوتی کا نوٹس لیتے ہوئے کہاکہ سروس چارجز ختم کرنے کیلئے اسٹیٹ بینک سے رابطہ کیا جائے ، انہوں نے کہاکہ بینکوں سے انکم اسپورٹ پروگرام کے مستحقین کے اکاؤنٹ کھولنے کا کہا جائے ، صدر مملکت نے کہاکہ ادائیگی کے جدید نظام سے پروگرام کے مستفیض افراد کو استحصال سے بچائے جاسکے گا، صدر مملکت نے زیادہ سے زیادہ مستحق طلباء کو وظائف کی فراہمی کیلئے ڈونرز اور پرائیویٹ سیکٹر کی شمولیت پر زورد یا۔