پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم کے مشیر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے صدر انجینئر امیر مقام نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معزز سپریم کورٹ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے وفاق کے خلاف طاقت کے استعمال کے اعلان کا نوٹس لے ،صوبے کی فورس کو استعمال کرنے کا بیان خانہ جنگی کے اعلان کے مترادف ہے،ثابت ہوگیا ہے کہ عمران نیازی پاکستان میں فساد کرانے کی تیاری کر رہا ہے ۔اپنے ایک بیان میں امیر مقام نے کہا کہ وفاقی حکومت وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے اعلان جنگ کا نوٹس لے کر کارروائی کرے ،ملک میں خانہ جنگی کرانے کی سازش کو ناکام بنانے کے لیے خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگایا جائے ،وفاق پاکستان کی وحدت اور عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لئے وفاقی حکومت فوری آئینی و قانونی اقدامات کرے،خیبرپختونخوا کی فورس عمران نیازی اور وزیر اعلی کی ذاتی فورس نہیں کہ وہ اسے ملک میں فساد اور انتشار کے لئے استعمال کرے ۔انہوں نے کہا کہ فورس سرکاری خزانے سے تنخواہیں لیتی ہے اور قانون کی پابند ہے۔خیال رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی آئندہ لانگ مارچ کی کال پر صوبے کی فورس استعمال کرنے کی دھمکی دی ہے ۔پشاور میں تقریب سے خطاب میں محمود خان کا کہنا تھاکہ امپورٹڈ حکومت نے جو کیا ہے اس کا بدلہ ضرور لیں گے، آج لیگل ٹیم کو بلایا تھا، ان سے مشاورت کی ہے، وفاقی حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس دائر کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ کے پی کےحکومت اور اس کے عوام سے امپورٹڈ حکومت نے جو کیا اس کا بدلہ ضرور لیں گے، کسی صورت میں انہیں نہیں بخشیں گے۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے دھمکی دی کہ عمران خان لانگ مارچ کی دوبارہ کال دیں گےتو خیبرپختونخواکی فورس استعمال کروں گا، ہم نہیں چھوڑیں گے۔ان کا کہنا تھاکہ وزیراعظم 24 گھنٹے میں آٹے کی قیمت کم کرنے کا الٹی میٹم دیتا ہے لیکن میں وزیراعظم کوالٹی میٹم دیتاہوں اپناحق ہم چھین کرلیں گے۔
خانہ جنگی کی سازش کو ناکام بنانے کے لیے خیبرپختونخوا میں گورنر راج لگایا جائے ،امیر مقام







