بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حکومت مزید 2 ارب ڈالرز بیرونی امداد کی خواہاں، گورنر اسٹیٹ بینک

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے پاکستان بیرونی اضافی امداد میں 2 ارب ڈالرز حاصل کرنے کے آخری مراحل میں ہیں۔

نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے بتایا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے 7 ارب ڈالرز کے بیل آؤٹ پروگرام کی منظوری کے لیے درکار اضافی بیرونی امداد میں 2 ارب ڈالرز حاصل کرنے کے آخری مراحل میں ہیں۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ انہیں توقع ہے کہ ملک کی مجموعی مالیاتی ضروریات اگلے مالی سال اور درمیانی مدت دونوں میں آسانی سے پوری ہو جائیں گی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں گورنر اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ پاکستان اگلے مالی سال تک مشرقی وسطیٰ کے کمرشل بینکوں سے 4 ارب ڈالرز اکٹھے کرنے کے لیے پُر امید ہے کیونکہ ملک اپنے بیرونی مالیاتی فرق کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پاکستان قرضوں کی ادائیگی کے بحران پر پھنسنے کے بجائے رول اوور اور قرضوں کی تجدید کے لیے دیرینہ اتحادیوں چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر انحصار کیے ہوئے ہے، گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ اسی طرح کی یقین دہانیاں اگلے تین سال تک کرائی جائیں گی، جس سے حکومت کو اپنے مالی معاملات کو ترتیب دینے میں مزید وقت ملے گا۔

گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے مزید بتایا کہ سینٹرل بینک کا خیال ہے کہ آنے والے سالوں کے لیے پاکستان کی مجموعی مالیاتی ضروریات مئی میں آئی ایم ایف کی جانب سے پیش کردہ مجموعی قومی پیداوار کے 5.5 فیصد سے کم ہوں گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کی بیرونی مجموعی مالیاتی ضروریات گزشتہ چند سالوں سے گرتی جا رہی ہیں، چونکہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کا تخمینہ مالی سال 2024 کے مقابلے میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے زیادہ پر مبنی تھا جو کہ اب اگلے چند سالوں کے لیے پیش کیا گیا ہے، ہم مجموعی مالیاتی ضروریات کے جی ڈی پی کے تناسب کو 5.5 فیصد کی سطح سے کم ہونے کا اندازہ لگاتے ہیں۔

مانیٹری پالیسی سے متعلق سوال پر اسٹیٹ بینک کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں شرح سود میں حالیہ کمی کا مطلوبہ اثر ہوا ہے، کمی کے باوجود افراط زر کی شرح سست ہوتی جا رہی ہے، اور کرنٹ اکاؤنٹ قابو میں ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی تمام پیشرفت کا جائزہ لے گی، مزید بتایا کہ شرح سے متعلق مستقبل کے فیصلے پہلے سے طے نہیں کر سکتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک نے 2 اجلاسوں میں شرح 22 فیصد سے کم کر کے 19.5 فیصد تک کم کی، جبکہ 12 ستمبر کو مانیٹری پالیسی کا جائزہ لینے کے لیے دوبارہ ملاقات کریں گے۔

مارکیٹوں میں کچھ خدشات یہ ہیں کہ حکومت کم شرح سود کا فائدہ اٹھا کر مزید قرض لے سکتی ہے، تاہم سینٹرل بینک کے سربراہ نے کہا کہ انہیں اس کی توقع نہیں۔