ممبئی(شوبز ڈیسک)فلم سازی کا بڑا گُر کسی بھی فلم میں اس کی کاسٹنگ کا ہوتا ہے۔ پاکستان میں تو کوئی کاسٹنگ ایجنسی نہیں ہے جو فلموں اور ڈراموں کے کرداروں کے لیے آڈیشنز کے بعد فنکاروں کو منتخب کرسکے۔ البتہ بالی وڈ سمیت ہالی وڈ اور دیگر ممالک میں کاسٹنگ ایجنسیز اپنا کام بھرپور طریقے سے انجام دے رہی ہیں۔ تاہم فلمی دنیا میں قدم رکھنے بعد فنکاروں کا بڑا امتحان اگلی فلموں میں اپنے لیے کردار منتخب کرنا بن جاتا ہے۔
بالی وڈ کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کئی سپر اسٹارز نے ایسی فلموں میں کام کرنے سے انکار کردیا جو ان کے کریئر میں لمبی چھلانگ ثابت ہوسکتی تھیں، پھر انہی فلموں میں کسی نئے فنکار یا کسی ’چھپے رستم‘ کو موقع ملا اور اس نے سلور اسکرین پر اپنی چھاپ چھوڑ دی۔
اپنے لیے کردار منتخب کرنا اور کرداروں میں کسی ہیرو یا ہیروئین کو سائن کرنا، دونوں ہی صورت میں جوا ہے۔ چند گنے چنے سپر اسٹارز فلموں کی کامیابی کے ضامن بن چکے ہیں لیکن ہمیشہ سے یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ کوئی بھی فنکار یا فلمی پنڈت اس بات کو یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ کس کردار میں کون سا ہیرو اور ہیروئین باکس آفس پر فلم کو کامیاب کرواسکتا ہے۔
بالی وڈ کی ایک ایسی ہی فلم ‘ہم دل دے چکے صنم ہے’ جس میں سلور اسکرین پر وہ فنکار اداکاری کے جوہر دکھاتے نظر آئے جو فلم کیلئے پہلا انتخاب نہیں تھے۔
ایشوریا رائے’مس ورلڈ‘ کی مصروفیات سے فارغ ہوئیں تو انہوں نے معروف ہدایتکار مانی رتنم کی تامل فلم’Iruvar‘ سے فلمی کیریئر کا آغاز کیا اور یکے بعد دیگر فلمیں سائن کرنا شروع کیں۔ تاہم ایش کو سب سے زیادہ مقبولیت فلم’ہم دل دے چکے صنم‘ سے حاصل ہوئی۔
اس فلم کے ہدایتکار سنجے لیلا بھنسالی نے ایشوریا کو اپنے ذہن میں نہیں رکھا تھا بلکہ وہ کپور خاندان کی نوجوان حسینہ کرینہ کپور کو اپنی فلم سے بالی وڈ میں متعارف کروانا چاہتے تھے۔
’بیبو‘ بالی وڈ میں اُڑان بھرنے کے لیے پَر تول رہی تھیں لیکن انہیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کون سی فلم سے اپنا کیریئر شروع کریں۔
کرینہ نے پہلے ’ہم دل دے چکے صنم‘ کی آفر ٹھکرائی۔ ادھر راکیش روشن اپنے بیٹے ریتک کو دھماکے دار انداز میں بولی وڈ میں لانچ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔ راکیش روشن نے فلم’کہو نا پیار ہے‘ میں کرینہ کپور کو ریتک کی ہیروئین بنایا، بیبو نے فلم کی کچھ شوٹنگ بھی کروائی لیکن انہیں لگا کہ شاید فلم کی پوری توجہ ریتک روشن پر ہے اور ان کے لیے یہ بہترفلم نہیں اس لیے انہوں راکیش سے معذرت کرلی۔
یوں امیشا پٹیل کو ایک بڑا فلمی ڈیبیو کرنے کا موقع مل گیا۔ بالآخر کرینہ اور ابھیشیک نے ’رفیوجی‘ (2000) سے اپنا فلمی کریئر شروع کیا۔ تاہم مقبولیت حاصل کرنے کے بعد بھی کرینہ کپور نے کئی ایسی بڑی فلمیں ٹھکرائیں جن میں انہیں اداکاری کے جوہر دکھانے کا بھرپور موقع مل سکتا تھا۔
شاہ رخ خان کے ساتھ فلم ’کل ہو نہ ہو‘ اور فلم ’چنائے ایکسپریس‘ رنویر سنگھ کے ساتھ ’رام لیلا‘ اور سپر ہٹ فلم ’کوئین‘ کی آفرز مسترد کرنا بھی کرینہ کپور کی غلطی کہا جاسکتا ہے۔ تاہم کرینہ ان فلموں کو چھوڑنے کے فیصلے کو غلطی نہیں مانتیں۔









