بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

چینی انٹر کرپنگ ٹیکنالوجی پاکستان کو کپاس کے بحران پر قابو پانے میں مدد دے گی، زرعی ماہرین

بہاولپور:
چین کی انٹر کرپنگ ٹیکنالوجی 2018 میں پاکستان میں اپنے قدم جمانے کے بعد سے پاکستان کے زرعی شعبے کو تقویت بخش رہی ہے۔ اس سال، خاص طور پر کپاس میں آپٹیمائزیشن اور لوکلائزیشن میں مختلف کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق اب پاکستان کا نیشنل ریسرچ سینٹر آف انٹر کرپنگ(این آر سی آئی)ان کسانوں کو رجسٹر کر رہا ہے جو مکئی، گندم، گنے اور کپاس کی پیداوار کے لیے ٹیکنالوجی اپنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ مکئی کی بوائی کے آئندہ سیزن میں این آر سی آئی پنجاب پر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے پاکستان کے دیگر اضلاع میں مکئی اور سویابین کے مخلوط کاشت کے مظاہرے کو وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ 1000 سے زیادہ کسانوں نے پہلے ہی اپنے کھیتوں پر مخلوط کاشت ٹیکنالوجی کا تجربہ کیا ہے ، جس سے پیداوار اور وسائل کی کارکردگی کے لحاظ سے امید افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق این آر سی آئی کے ڈائریکٹر اور گانسو اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز(جی اے اے ایس) کے انٹرنیشنل ریسرچ فیلو ڈاکٹر محمد علی رضا نے سی ای این کو بتایاابتدائی فیلڈ ٹرائلز نے امید افزا نتائج دکھائے ہیں، پنجاب کے کچھ کسانوں نے 10-14 من سویابین اور 15-18 من کپاس فی ایکڑ پیداوار حاصل کی ہے۔ چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق خاص طور پر اس سال این آر سی آئی کپاس کے کاشتکاروں کو فروری کے اوائل میں بوائی کے ساتھ بی ٹی کپاس اور سویابین کی مخلوط کاشت کی ترغیب دینے کے لئے ایک نئے نقطہ نظر کو فروغ دے رہا ہے، جس سے 2014 سے 2023 تک ملک میں کپاس کے پیداواری رقبے اور فی ایکڑ پیداوار میں کمی کے تناظر میں پاکستان میں کپاس کی پیداوار کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ ہم نے کپاس اور سویابین کی مخلوط کاشت کی ٹیکنالوجی کو بہتر بنایا ہے جو پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ اس سے قبل کاشتکاروں کو سفید مکھی کے حملوں اور گلابی کیڑوں کے حملوں سے بہت نقصان اٹھانا پڑا تھا جس کی وجہ سے کچھ لوگ کپاس کی بوائی میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے۔ تاہم، بی ٹی کپاس اور سویابین کی مخلوط کاشت کاری کے ساتھ، کسان کپاس کی پیداوار کو برقرار رکھتے ہوئے سویابین کی زیادہ پیداوار حاصل کرسکتے ہیں۔چائنہ اکنامک نیٹ کے مطابق ڈاکٹر رضا کے مطابق اس کے علاوہ پیکنگ یونیورسٹی کے پروفیسرز نے پاکستان کو مکئی اور سویابین کی اعلی پیداوار والی اقسام کے ساتھ ساتھ مکئی اور سویابین کی مخلوط کاشت ، جڑی بوٹیوں کے انسداد کیلئے خصوصی ادویات بھی فراہم کی ہیں۔