بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی ناکامی، محمود اچکزئی کا کیا کردار رہا؟

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف(PTI) کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کی بہت سی وجوہات بتائی جا رہی ہیں تاہم ایک وجہ محمود خان اچکزئی کا کردار بھی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مذاکراتی عمل کے دوران اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی(Mahmood KhanAchakzai) کا خاصا اثر رہا اور وہ متعدد معاملات کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان تک رسائی سے جوڑتے رہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران اپوزیشن کی جانب سے یہ مؤقف مسلسل سامنے آتا رہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بغیر کسی اہم معاملے پر حتمی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ مذاکراتی عمل کے مختلف مراحل میں محمود خان اچکزئی اور اپوزیشن کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے عمران خان سے ملاقات کو بنیادی نکتے کے طور پر پیش کیا گیا۔

چند روز قبل 2 اکتوبر کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ مذاکرات میں حکومتی وفد کی قیادت کرنے والے رہنماؤں کے ساتھ اپوزیشن کی جانب سے بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، علامہ راجا ناصر عباس اور دیگر رہنما شریک ہوئے، جبکہ محمود خان اچکزئی خود مذاکراتی نشست میں شریک نہیں ہوئے۔

واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا اختیار محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کو دے رکھا ہے۔

مذاکرات کے آغاز سے ایک روز قبل محمود خان اچکزئی اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات کے معاملے پر بھی ڈیڈلاک سامنے آیا۔ 2 اکتوبر کو محمود اچکزئی نے وزیراعظم سے ان کے دفتر یا چیمبر میں ملاقات سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ وہ مسلم لیگ (ن) کے کسی بھی رہنما کے گھر پر وزیراعظم سے مل سکتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ وہ پاکستان کی کسی بھی گلی یا کسی درخت کے نیچے وزیراعظم سے ملاقات کرلیں گے، تاہم وزیراعظم ہاؤس یا وزیراعظم کے چیمبر میں ملاقات کے لیے نہیں جائیں گے۔

اسی دوران اپوزیشن اتحاد نے وزیراعظم شہباز شریف کے 21 ستمبر کے خط کا جواب دینے کا فیصلہ کیا جبکہ بیرسٹر گوہر نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کی دعوت قبول کرنے کی تصدیق کی۔
مذاکرات میں اصل تنازع کیا تھا؟

مذاکرات کے دوران بظاہر ایک اہم تنازع یہ سامنے آیا کہ اپوزیشن حکومت سے کن معاملات پر یقین دہانی چاہتی ہے اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کو کس حد تک مذاکرات کی پیشرفت سے منسلک کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق اپوزیشن کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان سے ملاقات کے بغیر مذاکرات میں کسی حتمی نتیجے تک پہنچنا مشکل ہوگا۔

انڈپینڈنٹ اردو نے اپوزیشن اتحاد کے ترجمان حسین اخونزادہ کے حوالے سے رپورٹ کیاکہ محمود اچکزئی نے بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سے رابطے میں کہاکہ عمران خان سے ملاقات کے بعد ہی آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ کیا جائےگا۔

مزید پڑھیں:ڈاکٹروں کی تنخواہوں میں 15 فیصد اضافے کا اعلان

4 اکتوبر کی ایک رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کی ناکامی میں محمود خان اچکزئی کا کلیدی کردار تھا اور وہ مذاکراتی کمیٹی پر اثرانداز تھے۔ اسی رپورٹ کے مطابق محمود اچکزئی مذاکرات کے دوران معاملات کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کی رہائی سے جوڑتے رہے۔
ذرائع نے دعویٰ کیاکہ مذاکرات کے دوران ایک مرحلے پر حکومت بیرسٹر گوہر کی عمران خان سے ملاقات پر آمادہ ہوگئی تھی، تاہم لانگ مارچ ملتوی کرنے اور انسداد دہشتگردی سے متعلق معاملات پر اتفاق نہ ہونے کے باعث ڈیڈلاک برقرار رہا۔

مذاکرات کے آخری دور کے بعد اپوزیشن اتحاد کی جانب سے مؤقف سامنے آیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بغیر آئندہ کے لائحہ عمل کا فیصلہ ممکن نہیں تھا۔

کیا محمود اچکزئی ہمیشہ مذاکرات کے مخالفت کرتے رہے؟

محمود خان اچکزئی کے حالیہ مؤقف کو ان کے سابقہ بیانات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ان کا سیاسی مؤقف مذاکرات کے اصول کے خلاف مستقل طور پر نہیں رہا۔

جنوری 2025 میں حکومت سے مذاکرات کی مخالفت

18 جنوری 2025 کو محمود اچکزئی نے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان جاری مذاکرات کی مخالفت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو حکومت کے ساتھ مذاکرات ختم کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

ان کا مؤقف تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا مطلب ایسی حکومت کو جائز قرار دینا ہوگا جس کے مینڈیٹ پر وہ سوال اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے نواز شریف سے شہباز شریف کا استعفیٰ لے کر قومی حکومت قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

2026 میں دوبارہ مذاکرات کا مرحلہ

2026 میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا نیا سلسلہ شروع ہوا تو محمود اچکزئی نے مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا، تاہم ان کا طرزِ عمل یہ ظاہر کرتا رہا کہ وہ مذاکرات کے مقام، فریقین کی حیثیت اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کو خاص اہمیت دیتے ہیں۔

2 اکتوبر کو اپوزیشن وفد کی حکومتی وفد سے ملاقات کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے محمود اچکزئی سے بھی ملاقات کی اور مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت سے انہیں آگاہ کیا۔

بعد ازاں مذاکرات کے آخری دور میں بھی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا معاملہ اہم رکاوٹوں میں شامل رہا۔ مذاکرات بالآخر بے نتیجہ ختم ہوگئے اور دونوں جانب سے ناکامی کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کی گئی۔

3 ستمبر 2024 کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا تھا کہ وہ ہر ادارے سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور اسٹیبلشمنٹ سے بھی بات کریں گے۔ تاہم ان کے مطابق مقصد اسٹیبلشمنٹ سے رہنمائی لینا نہیں بلکہ ملک کو بحران سے نکالنے اور آئین کی بالادستی کے لیے بات چیت کرنا تھا۔

اس وقت وہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کی قیادت کر رہے تھے اور پی ٹی آئی کی جانب سے انہیں مذاکرات کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ اس مرحلے پر ان کا زور وسیع تر سیاسی مذاکرات اور آئین کی بالادستی پر تھا۔