بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

میزائل پروگرام پرپابندیاں ،امریکہ نے پاکستان کوچین سے دوستی کی سزا دی

اسلام آباد(طارق محمودسمیر)امریکہ کی طرف سے پاکستان کے بیلاسٹک میزائل پروگرام کوبنیادبنا کرچارکمپنیوں پر ایک ایسے وقت میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب جوبائیڈن انتظامیہ کی رخصتی اور ٹرمپ انتظامیہ کے چارج سنبھالنے کے وقت قریب آرہاہے،ان پابندیوں کا مقصدبظاہرپاکستان کو نقصان پہنچاناتو ہے ہی تاہم اس کابڑامقصدچین پر بھی دباؤ ڈالناہے کیونکہ خطے میں امریکہ اور بھارت کی قریبی دوستی اور چین مخالف بلاک بنانے کی کوششیں کئی برسوں سے کئی جارہی ہیں تاہم جب سے سی پیک منصوبہ شروع ہواہے،کسی نہ کسی انداز میں پاکستان پر امریکہ دباؤڈالتارہاہے،پاکستان کوان پابندیوں کو سنجیدگی سے لیناہوگا،وزیراعظم محمدشہبازشریف کو چاہئے کہ وہ مصرسے واپسی کے بعد کابینہ کی دفاعی کمیٹی کااجلاس بلاکرجامع لائحہ عمل طے کریں ،گزشتہ روزامریکی دفترخارجہ کے ترجمان کے بیان کے مطابق پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں میں اسلام آباد کا نیشنل ڈویلپمنٹ کمپلیکس، کراچی کی ایفیلیئٹس انٹرنیشنل ، اختر اینڈ سنز پرائیویٹ لمیٹڈ اور راک سائیڈ انٹرپرائز شامل ہیں اور امریکی الزام کے مطابق ان کمپنیوں نے پاکستان کے میزائل پروگرام کی مدد کی ہے،اگرتاریخ میں جایاجائے تو پاکستان کا میزائل پروگرام سابق وزیراعظم بے نظیربھٹونے شروع کیاتھا،جسے میاں نوازشریف نے 1997کی حکومت میں برقراررکھااور غوری میزائل کا بھی کامیاب تجربہ کیاگیاجو طویل فاصلے تک مارکرنے کی صلاحیت رکھتاہے،اس میزائل کے تجربے کے بعد بھارت نے بہت پروپیگنڈکیاتھانوازشریف کے دورمیں ہی پاکستان کی قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے ایٹمی دھماکے کئے گئے ،ان دھماکوں کے بعد امریکہ نے پاکستان پر اقتصاد ی پابندیاں لگائیں لیکن پاکستان نے سعودی عرب اور دیگرقریبی دوست ممالک کے تعاون سے ان پابندیوں کامقابلہ کیا،پرویزمشرف کے دورمیں بھی یہ میزائل پروگرام کامیابی سے جاری رہا،بعض تجزیہ نگارلاعلمی کی بنیادپریہ تنقیدکررہے ہیں کہ وزیراعظم محمدشہبازشریف ایک کمزوروزیراعظم ہیں اورمخلوط حکومت اور پاکستان میں سیاسی عدم استحکام ہونے کیباعث امریکہ کو ایسی پابندیاں لگانے کا ملاہے لیکن انہیں اس بات کا بھی تذکرہ کرناچاہئے اس وقت پاکستان کی سب سے مقبول قراردی جانے والی سیاسی جماعت تحریک انصاف کید ورحکومت میں نومبر2021 میں متعددپاکستانی کمپنیوں پر اسی طرح کی پابندیاں لگائی گئیں تھیں،دفترخارجہ کی ترجمان ممتاززہرابلوچ نے بروقت اورسخت ردعمل کااظہارکیاہے اور امریکی فیصلے پر ردعمل میں کہاکہ نجی کمپنیوں پریہ پابندیاں افسوسناک ہیں اور اس اقدام کے خطے کے سٹرٹیجک استحکام پر خطرناک اثرات مرتب ہوں گے ،ماضی میں بھی محض شکوک وشبہات کو بنیادبناکر پابندیاں عائدکی گئی تھیں،ترجمان نے بروقت اوردرست ردعمل دیاہے کیونکہ بھارت خطیمیں اپنی طاقت مزید بڑھارہاہیاور امریکہ اسے مکمل سپورٹ کررہاہے،بھارت نے ہمیشہ پاکستان میں گڑبڑکرائی،بلوچستان میں حالات خراب کرنے میں بھارت کاہاتھ ہے پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیوکورنگے ہاتھوں پکڑاتھا،مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکہ خاموشی اختیارکرتاہے،پاکستان میں ایک سیاسی جماعت کے رہنماوں کے خلاف کرپشن اور نومئی جیسے واقعات کے مقدمات پر امریکی کانگریس کے ارکان بیان بازی کرکے پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت بھی کرتے ہیں ان تمام پہلووں کو مدنظررکھناچاہئے،یہ ایسامسئلہ ہے جس پر تمام سیاسی جماعتوں کو اتحادکامظاہرہ کرناہوگا،پی ٹی آئی کے ایک رہنمازلفی بخاری نے بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے امریکی پابندیوں کی مخالفت کی ہے جب کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹرگوہرنے بھی واضح کیاہیکہ خارجہ پالیسی کے معاملات پروہ ملکی پالیسی کے ساتھ کھڑے ہیں ،انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی سیاسی جدوجہد کی کامیابی اور پارٹی رہنماوں کی رہائی کے لیے امریکہ سے مددمانگ رہے ہیں نہ ان کی طرف دیکھ رہے ہیں،اوورسیزپاکستانیوں کی اپنی سیاست ہے ان دونوں بیانات سے یہ لگتاہیکہ سیاسی قیادت کو خارجہ پالیسی کے معاملات پر حکومت پرتنقیدکرنے کی بجائے مل بیٹھ کر پاکستان کے مفاد میں جامع لائحہ عمل بناناچاہئے۔