اقوام متحدہ کا ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین (انروا ) نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل فوجی ہر ایک گھنٹے میں ایک فلسطینی بچے کوموت کے گھاٹ اتار رہا ہے۔
ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 14 ہزار 500 سے زائد بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔
ایجنسی نے منگل کوایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ’’انروا کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک اسرائیل نے 14 ہزار 500 بچوں کا قتل عام کیا ہے ۔ ہر گھنٹے ایک بچے کوقتل کیا گیا ہے۔ یہ تعداد نہیں ہیں۔ یہ انسانی جانیں ہیں۔‘‘
اقوام متحدہ کا ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین کے کمشنرجنرل فلپ لازارینی نےنشاندہی کی کہ جو بچےزندہ ہیں وہ جسمانی اور جذبات طور پر کس طرح خوفزدہ ہیں اور انہیں تعلیم سے محروم رکھا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ میں 6 لاکھ سے زائد بچے ایسے ہیں جو تعلیم سے محروم ہیں، اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 12 ہزار سے زائد طلبہ نے اپنی جانیں گنوائی ہیں جبکہ کئی بچے زخمی ہیں۔ غزہ میں ہزاروں بچے ایسے ہیں جنہوں نے اپنے ایک ہاتھ یا ایک پاؤں گنوادیئے ہیں۔ 17 ہزار سے زائد بچے یتیم ہوئے ہیں جبکہ درجنوں بچے اپنے والدین سے بچھڑ گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اب تک اسرائیلی جارحیت کے سبب 45 ہزار سے زائد فلسطینیوں نے اپنی جانیں گنوائی ہیں جبکہ ایک لاکھ سے زائد زخمی ہوئے ہیں جاں بحق افراد میں 70 فیصد زائد خواتین اور بچے ہیں۔
غزہ، اسرائیلی ہر ایک گھنٹے میں ایک بچے کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں، رپورٹ








