اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری سے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایوانِ صدر میں ملاقات کی جس میں پہلگام حملے کے بعد بھارت کے ساتھ کشیدگی کے پیشِ نظر موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ بھی موجودتھے۔ملاقات کے بعد جاری اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنمائوں نے بھارت کے جارحانہ رویہ اور اشتعال انگیز بیانات پر گہری تشویش کا اظہارکیا۔انہوں نے کہاکہ بھارتی رویے سے علاقائی امن و استحکام کو خطرہ ہے،پاکستان ملک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گا ۔انہوں نے کہاکہ پاکستانی قوم متحد ہے ، اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے ، افواج ِپاکستان کسی بھی خطرے یا جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں، اعلامیہ کےمطابق ملاقات میں بھارت کے جارحانہ رویے ، کسی بھی ممکنہ جارحیت پر پاکستان کے ردعمل کا بھی جائزہ لیا گیا، ملاقات میں پہلگام حملے کے حوالے سے بھارتی قیادت کی جانب سے بغیر کسی تحقیقات کے لگائے گئے الزامات پر افسوس کا اظہارکیاگیا۔اعلامیہ کے مطابق پاکستان دو دہائیوں سے دہشت گردی کا شکار رہا ، بے پناہ انسانی اور معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، عالمی برادری دہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے پاکستان میں عسکریت پسندوں کو فنڈنگ، تربیت اور بھیجنے میں بھارت کے ملوث ہونے کا نوٹس لے ، صدر مملکت نے بھارتی بے بنیاد الزامات پر حکومت کے ردعمل اور ذمہ دارانہ انداز میں صورتحال سے نمٹنے کو سراہا۔ صدرمملکت نے کہاکہ پاکستان ہر قیمت پر اپنی خودمختاری ، علاقائی سالمیت اور اہم قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا، ملاقات میں کشمیری عوام کے حق ِخودارادیت کیلئے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا گیا ،وزیر اعظم نے کوویڈ 19 سے صحت یاب ہونے کے بعد صدر مملکت کی صحت بارے بھی دریافت کیا۔
صدرمملکت اوروزیراعظم کی ملاقات،بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کااعلان







