اسلام آباد (نیوز ڈیسک)قومی کمیشن برائے وقارِ نسواں نے مصر کے پاکستانی سفارت خانے اور یو این وومن پاکستان کے تعاون سے پاکستان بھر سے خواتین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے آفس بیئررز اور اہم شخصیات کےساتھ ساتھ مالیاتی اداروں اور اہم بینکوں کے درمیان آج اسلام آباد میں مصری سفارت خانے میں ایک براہ راست مکالمہ کا اہتمام کیا۔اس سرگرمی کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ان دونوں بڑے فاعلین کے مابین خواتین کی بڑھتی ہوئی مالی شمولیت کے لئے انٹرایکٹو ڈائیلاگ کے ذریعے ہم آہنگی کو بہتر بنایا جائے۔ چیئرپرسن این سی ایس ڈبلیو محترمہ نیلوفر بختیار نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا اس قوم کی ترقی کی کنجی ہے۔ این سی ایس ڈبلیو اس ایجنڈے پر مختلف اقدامات متعارف کروا کر اور کلیدی اداروں کو اکٹھا کر کے اس موضوع پر کھل کر بحث کرنے اور کاروباری دنیا میں زیادہ خواتین کو شامل کرنے کے لئے ضروری حل کی نشاندہی کرنے کے لئے کام کرتا رہے گا۔ اس وقت پاکستان میں صرف ایک فیصد خواتین انٹرپرینیورز ہیں جو اس خطے میں سب سے کم شرح ہے۔ اس موقع پر اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، کراچی، اے جے کے اور گلگت بلتستان سے وومن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدور موجود تھے۔ شرکت کرنے والے دیگر بڑے مالیاتی ادارے اسٹیٹ بینک آف پاکستان، نیشنل بینک آف پاکستان، فرسٹ ویمن بینک اور جے ایس بینک تھے۔. خواتین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے آفس ہولڈرز نے مالیاتی اداروں کی طرف سے خواتین کی ملکیت کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے لئے زیادہ سے زیادہ وسائل مختص کرنے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان میں مصری سفیر کی اہلیہ محترمہ عالیہ نے خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے والے اقدامات کی بہت حامی ہونے کے ناطے اس مکالمے کے لیے جگہ فراہم کی۔ وہ سمجھتی ہیں کہ دنیا بھر کی خواتین کو معاشرے میں اپنی جائز حیثیت کا دعویٰ کرنے کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دینے کی ضرورت ہے۔ محترمہ شرمیلا رسول، یو این وومن پاکستان کی ملکی سطح پر سربراہ نے بھی اس موقع پر حاضرین سے بات کی۔ انھوں نے اس اقدام کی اہمیت کو واضح کیا اور اس ایجنڈے کو آگے لے جانے میں اقوام متحدہ کی زیادہ سے زیادہ حمایت کی یقین دہانی کرائی۔ پورے گروپ نے خواتین، گھر میں مقیم کارکنوں اور دیگر خواتین کی قیادت میں کاروبار کے ذریعہ تیار کردہ مصنوعات کی باہمی حمایت اور فروغ پر اتفاق کیا اور اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ این سی ایس ڈبلیو مصری سفارت خانے اور یو این وومن کی حمایت سے پاکستان میں باہم تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کرے گا۔ این سی ایس ڈبلیو پہلے ہی کاروباری دنیا میں بین الاقوامی رول ماڈلز کے ساتھ ویبنئرز کو منظم کرکے ان خطوط پر کام کررہا ہے اور ان کے اور ہمارے مقامی کاروباری افراد کے درمیان نیٹ ورکنگ کو بہتر بنانے اور ایک دوسرے سے سیکھنے کے مواقع فراہم کررہا ہے۔ این سی ایس ڈبلیو اور یو این وومن نے عملے میں صنفی برابری کو یقینی بنانے اور چیمبر کی رکنیت کو آسان بنانے کے لیے چیمبر کی پالیسیوں میں تبدیلیاں تجویز کیں تاکہ زیادہ سے زیادہ خواتین ان میں شامل ہوسکیں۔
خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانا اس قوم کی ترقی کی کنجی ہے،نیلوفربختیار








