دمشق(انٹرنیشنل ڈیسک)اسرائیلی فوج نے شام کے جنوب مغربی صوبے قنیطرہ میں دو قصبوں میں داخل ہو کر ایک بار پھر ملک کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی ہے۔ شامی سرکاری ٹی وی الاخباریہ کے مطابق اسرائیلی قابض فوج کی ایک گشتی ٹیم قنیطرہ کے شمال میں واقع قصبہ ترنیجہ میں داخل ہوئی، جہاں وہ مرکزی چوک پر کچھ دیر رکی اور بعد ازاں قنیطرہ کے شمالی دیہی علاقے کے قصبہ حادر کی جانب روانہ ہو گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسرائیلی فوج کا ایک اور قافلہ تل الاحمر الغربی سے نکل کر جنوبی قنیطرہ کے دیہی علاقے میں واقع گاؤں الاسبہ کے مضافات کی طرف بڑھا، جس سے مقامی آبادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
ذرائع کے مطابق 2024 کے آخر میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے شامی گولان کی پہاڑیوں پر اپنا کنٹرول مزید بڑھا دیا اور غیر عسکری بفر زون پر بھی قبضہ کر لیا، جو شام اور اسرائیل کے درمیان 1974 میں طے پانے والے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
علاقائی رپورٹس کے مطابق اسرائیل گزشتہ برسوں میں شام میں متعدد فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا چکا ہے، جن میں لڑاکا طیارے، میزائل سسٹمز اور فضائی دفاعی مراکز شامل ہیں۔ یہ تازہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہی ہے اور شام کی زمینی سالمیت پر ایک اور حملہ سمجھی جا رہی ہے۔









