بھارتی سپریم کورٹ نے آوارہ کتوں سے متعلق اپنے سابقہ فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ دہلی اور گردونواح سے پکڑے گئے تمام آوارہ کتوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کے بعد ان کی اصل جگہوں پر واپس چھوڑ دیا جائے۔
اس سے قبل عدالت نے رواں ماہ حکم دیا تھا کہ شہری علاقوں میں کتے کے کاٹنے اور ریبیز کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر تمام آوارہ کتوں کو پناہ گاہوں میں منتقل کیا جائے۔ تاہم اس فیصلے پر انسانی حقوق کے کارکنوں، سیاستدانوں اور جانوروں کے حقوق کے علمبرداروں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔
فیصلے پر شدید ردعمل، آن لائن مہم کا آغاز
عدالتی حکم کے بعد جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اسے “عملی طور پر ناقابلِ عمل” قرار دیتے ہوئے آن لائن دستخطی مہم شروع کی، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔ ان کا مؤقف تھا کہ بھارت میں کروڑوں آوارہ کتوں کے لیے مناسب پناہ گاہوں کا انتظام ممکن نہیں ہے۔
اپوزیشن رہنما راہول گاندھی نے بھی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فیصلہ ایک انسانی، سائنسی اور ہم آہنگ پالیسی سے پیچھے ہٹنے کے مترادف ہے۔
مینکا گاندھی کی جانب سے فیصلے کا خیر مقدم
جانوروں کے حقوق کی سرگرم کارکن اور سابق وزیر مینکا گاندھی نے سپریم کورٹ کے تازہ حکم کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ آوارہ کتوں کو ان کے علاقوں میں واپس بھیجنا ایک دانشمندانہ قدم ہے۔
اعداد و شمار تشویشناک لیکن حقیقت واضح
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق صرف جنوری میں ملک بھر میں 4 لاکھ 30 ہزار افراد کو کتوں نے کاٹا جبکہ 2024 میں مجموعی طور پر یہ تعداد 37 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق بھارت میں 5 کروڑ 25 لاکھ آوارہ کتے موجود ہیں، جبکہ صرف 80 لاکھ کو ہی پناہ گاہوں میں جگہ مل سکی ہے۔
سپریم کورٹ کا آئندہ کے لیے قومی پالیسی پر زور
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے عندیہ دیا ہے کہ اس معاملے کو صرف دہلی تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ آوارہ کتوں کے مسئلے پر جلد ہی ایک جامع، ملک گیر پالیسی تیار کی جائے گی۔
بھارتی سپریم کورٹ کا آوارہ کتوں کو حفاظتی ٹیکوں کے بعد دوبارہ چھوڑنے کا حکم








