— روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے واضح اور سخت شرائط پیش کر دیں، جن پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں روس نے جنگ جاری رکھنے کا عندیہ دے دیا ہے۔
پیوٹن چاہتے ہیں کہ یوکرین مشرقی سرحدی علاقوں، خاص طور پر ڈونباس سے دستبردار ہو جائے اور نیٹو اتحاد میں شمولیت کا ارادہ ترک کرے۔ روسی صدر کا مؤقف ہے کہ ان مطالبات کو تسلیم کیے بغیر جنگ بندی ممکن نہیں۔
پیوٹن نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ نیٹو کی افواج کو مشرقی یورپی سرحدوں سے ہٹایا جائے۔ اس کے بدلے میں روس کچھ علاقوں سے اپنی افواج پیچھے ہٹانے پر آمادہ ہے۔
ٹرمپ اور پیوٹن کی الاسکا میں ملاقات، اہم نکات پر گفتگو
خبر رساں اداروں کے مطابق یہ نکات حالیہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ولادیمیر پیوٹن کے درمیان الاسکا میں ہونے والی تین گھنٹے طویل ملاقات کے دوران زیرِ بحث آئے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پیوٹن نے ٹرمپ کو براہِ راست اپنے مؤقف سے آگاہ کیا، اور کہا کہ اگر یوکرین ان شرائط پر راضی نہیں ہوتا تو روسی فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
امریکی صدر کا ردعمل: “یہ جنگ ختم کروا کر رہوں گا
دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں سے ملاقات کے دوران دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا، **”میں یہ جنگ رکواؤں گا، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔
میٹنگ کے دوران، ٹرمپ نے روسی صدر پیوٹن کو فون بھی کیا جس کی وجہ سے اجلاس وقتی طور پر روکنا پڑا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ گفتگو تقریباً 40 منٹ جاری رہی۔
زیلنسکی اور پیوٹن کی ممکنہ ملاقات کی امید
روسی صدر پیوٹن نے ٹرمپ کو بتایا کہ وہ یوکرینی صدر زیلنسکی سے براہ راست ملاقات کیلئے تیار ہیں۔ دونوں صدور کے درمیان اگست کے آخر تک ملاقات کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، جسے ممکنہ طور پر جنگ کے خاتمے کی راہ میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
روسی صدرنے یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے شرائط رکھ دیں








