برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایران پر اقوام متحدہ کی معطل شدہ پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کے لیے باضابطہ عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ تینوں ممالک نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک مشترکہ خط میں آگاہ کیا ہے کہ ایران 2015 کے جوہری معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق کیے گئے وعدوں کی پاسداری نہیں کی، جس کے باعث “اسنیپ بیک میکنزم” کو فعال کیا جا رہا ہے — ایک ایسا نظام جس کے تحت اقوام متحدہ کی پرانی پابندیاں دوبارہ خود بخود نافذ ہو جاتی ہیں، اور یہ عمل آئندہ 30 روز کے اندر مکمل ہو جائے گا۔
یاد رہے کہ 2015 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت ایران پر عائد اقوام متحدہ کی متعدد پابندیاں ہٹا لی گئی تھیں، تاہم حالیہ برسوں میں ایران کی جانب سے یورینیم افزودگی کی سطح میں اضافے اور معاہدے کی دیگر شرائط کی خلاف ورزیوں پر عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے۔
ایران نے یورپی ممالک کے اس اقدام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے “غیر قانونی اور غیر معقول” قرار دیا ہے۔ تہران کا مؤقف ہے کہ وہ معاہدے کی حدود کے اندر رہتے ہوئے پرامن جوہری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔









