لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستان کی معروف اور سینئر اداکارہ اسماء عباس نے اپنی بیماریوں اور کینسر کے خلاف طویل جدوجہد پر پہلی بار کھل کر بات کی ہے۔
ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ کینسر کی تشخیص ان کے لیے زندگی کا سب سے کڑا وقت تھا، لیکن اللّٰہ تعالیٰ کے کرم اور بیٹی زارا نور عباس کی حوصلہ افزائی نے انہیں ہمت دی اور وہ اس مرحلے سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں۔
اسماء عباس نے کہا کہ شروع میں ان کا وزن تیزی سے کم ہو رہا تھا، جس پر خوشی بھی ہوتی تھی، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ کینسر کی علامت ہے۔ تشخیص میں وقت لگا لیکن بروقت پتہ چلنے پر انہوں نے فوری علاج شروع کر دیا اور دو بڑے پروجیکٹس بھی چھوڑنے پڑے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بہت سے لوگوں نے انہیں امریکا جا کر علاج کروانے کا مشورہ دیا تھا، ان کے بھائی نے بھی بلایا، لیکن انہوں نے پاکستان ہی میں علاج کروایا۔ ان کا کہنا تھا کہ والد کہا کرتے تھے موت کا فرشتہ کہیں بھی آسکتا ہے، اسی سوچ کے تحت انہوں نے پاکستان میں ہی علاج کرایا۔
اداکارہ نے یہ بھی کہا کہ نظرِ بد حقیقت ہے اور ممکن ہے انہیں بھی اس کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ تاہم آج وہ صحت مند ہیں اور معمول کی زندگی گزار رہی ہیں۔
اپنی دیگر بیماریوں کا ذکر کرتے ہوئے اسماء عباس نے بتایا کہ ان کے گلے میں پلیٹس ہیں، کندھوں کے ٹینڈنز ٹوٹے ہوئے ہیں، وہ گزشتہ بیس سال سے ذیابیطس کی مریضہ ہیں، مگر اس کے باوجود اللّٰہ کے کرم سے آج وہ پنجابی شوز میں رقص بھی کرتی ہیں۔









