بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

گڈ گورننس کیلئے اقدامات ناگزیر، ڈی جی آئی ایس پی آر کا محسن نقوی کے بیان پر ردعمل

راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ محسن نقوی نے جو بات ذاتی حیثیت میں کی، اس پر وہ تبصرہ نہیں کریں گے۔ تاہم ملک میں گڈ گورننس کی بہتری کیلئے اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بہتر حکمرانی پاکستان کی ترقی کیلئے انتہائی ضروری ہے اور اس مقصد کیلئے تمام اداروں اور سیاسی جماعتوں کو مل کر سوچنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل اور موثر انتظامی نظام کیلئے اقدامات ناگزیر ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ جب پاکستان کی آبادی 6 سے 7 کروڑ تھی، اس وقت بھی ملک میں چار صوبے تھے، جبکہ آج آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے لیکن انتظامی تقسیم اب بھی وہی ہے۔ ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ کیا موجودہ نظام گڈ گورننس کے تقاضے پورے کر رہا ہے؟

مزید پڑھیں:ملک میں مجموعی طور پر 40 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیے جا چکے: ڈی جی آئی ایس پی آر

انہوں نے کہا کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی خواہش ہے کہ حکمرانی کا معیار بہتر ہو، عوام کو سہولیات ملیں اور ریاستی نظام مزید موثر بنایا جائے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ گڈ گورننس صرف ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی کوشش کا تقاضا کرتی ہے۔ پالیسی سازی، انتظامی اصلاحات اور عوامی خدمت کے نظام کو بہتر بنا کر ہی ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ملک میں انتظامی معاملات اور صوبوں سے متعلق ایک بیان دیا تھا، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہوئی۔ اب ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس معاملے پر وضاحت کرتے ہوئے گورننس کی بہتری کو بنیادی ضرورت قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ محسن نقوی نے گزشتہ روز کہا تھا کہ مجھے سیاست کے ایوانوں میں آئے ساڑھے تین سال ہوگئے۔ میں یہی بتاسکتا ہوں کہ آپ 10 سال بعد بھی یہاں بیٹھے یہی مسائل بتارہے ہوں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ جس سسٹم میں ہم رہ رہے ہیں یہ سسٹم منہدم ہوچکا ہے۔ جس دن آپ نے فیصلہ کرلیا نظام کو ٹھیک کرنا ہے، یہ نظام ٹھیک ہوجائے گا۔

محسن نقوی نے کہا کہ میں جمہوریت کا سب سے بڑا سپورٹر ہوں لیکن جمہوریت میں بھی کئی قسم کے نظام ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ عام آدمی کو بنیادی سہولت چاہیے جو ہم نہیں دے پاتے ہیں۔ آپ کو ایڈمنسٹریٹو یونٹس کی سطح پر جانا ہوگا۔ اسے صوبے کہہ دیں یا جو بھی بھی نام دے دیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ نوجوانوں کو دو چار ہزار روپے یا ٹیبلٹس دے کر ٹھیک کرلیں گے۔ جب تک ملک کی بنیادی چیزوں کو ٹھیک نہیں کریں گے مسائل رہیں گے۔ سوال یہ ہے کہ ان چیزوں کو کون ٹھیک کرے گا۔