چیف جسٹس آف پاکستان کی زیر صدارت ہونے والے فل کورٹ اجلاس میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت حال ہی میں بڑھائی گئی عدالتی فیسوں اور سکیورٹیز میں اضافے کے رولز معطل کر دیے گئے ہیں۔
اس فیصلے کے بعد باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ اب عدالتی فیسوں اور سکیورٹیز کی وصولی 1980 کے قواعد و ضوابط کے مطابق ہی کی جائے گی۔
یہ فیصلہ اُس وقت سامنے آیا جب سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میاں رؤف عطا نے فیسوں میں حالیہ اضافے کے خلاف تحریری تجاویز پیش کیں۔ اُنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالتی فیس میں اضافہ، آئین کے آرٹیکل 37 — جو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کی ضمانت دیتا ہے — کی روح کے منافی ہے۔
میاں رؤف عطا کا کہنا تھا کہ انصاف صرف چند افراد کا حق نہیں بلکہ ہر شہری کی بنیادی ضرورت ہے، اور اگر عدالتی فیسیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوں گی تو عدالتوں تک رسائی خود بخود محدود ہو جائے گی۔
فل کورٹ کا یہ فیصلہ نہ صرف وکلا برادری کے لیے ایک ریلیف ہے بلکہ اُن ہزاروں عام شہریوں کے لیے بھی امید کی کرن ہے جو پہلے ہی معاشی مشکلات کے باعث عدالتی چارہ جوئی سے گریزاں تھے۔
عدالتی فیسوں اور سکیورٹیز میں حالیہ اضافہ معطل، 1980 کے نرخ بحال








