بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایران نے جرمنی، فرانس اور برطانیہ سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا

تہران نے ہفتے کے روز جرمنی، فرانس اور برطانیہ میں تعینات اپنے سفیروں کو “مشاورت کے لیے” واپس بلا لیا ہے۔ بین الاقوامی ذرائع کے مطابق، یہ اقدام اقوام متحدہ کی جانب سے ایران پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ یورپی ممالک — جنہیں ای تھری (E3) کہا جاتا ہے — کی جانب سے پابندیوں کے نفاذ سے کچھ ہی گھنٹے قبل تہران نے پہلا عملی ردِعمل دیتے ہوئے اپنے سفیروں کو واپس بلایا۔ یہ اقدام ایران کی جانب سے بطور احتجاج اٹھایا گیا، کیونکہ ان تینوں یورپی ممالک نے ایران پر دوبارہ پابندیاں لگانے کے لیے’’ٹرگر میکانزم‘‘ کا استعمال کیا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس اور چین کی جانب سے ایران پر پابندیوں کو مؤخر کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ اس قرارداد کی صرف چار ممالک — جن میں پاکستان بھی شامل تھا — نے حمایت کی، یوں ایران پر پرانی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کی راہ ہموار ہو گئی۔
تہران نے یورپی ممالک کے اس فیصلے کو ’’ظالمانہ‘‘ اور ’’غیر ذمہ دارانہ‘‘ قرار دیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ یورپی طاقتیں ایٹمی معاہدے کی اصل روح سے ہٹ کر اقدامات کر رہی ہیں۔ اس سے قبل تہران نے یہ بھی دھمکی دی تھی کہ اگر دباؤ بڑھا تو وہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) سے تعاون معطل کر دے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی حالیہ دنوں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے موجود تھے، جہاں انہوں نے یورپی رہنماؤں، خاص طور پر فرانسیسی وفد سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ تاہم، ان مذاکرات میں کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔ یورپی سفارتکاروں نے ایران کی طرف سے دی گئی تجاویز کو “غیر سنجیدہ” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔