افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے افغانستان میں ہوئے دھماکوں کو پاکستان کی غلطی قرار دے دیا ۔
اپنے دورہ بھارت کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امیر خان متقی نے کہا کہ ان دھماکوں سے کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ادھر افغان حکومت نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کے قریب بم باری کی مذمت کرتے ہیں۔
علاوہ ازیں ایک بیان میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان سے واہگہ بارڈر کھولنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے افغانستان اور بھارت کے درمیان تجارتی سرگرمیوں میں نمایاں آسانی پیدا ہوگی۔
امیر خان متقی نے کہا کہ “ہم پاکستان اور بھارت دونوں سے درخواست کرتے ہیں کہ واہگہ بارڈر ہمارے لیے کھول دیا جائے تاکہ دوطرفہ تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔”
انہوں نے کہا کہ “تجارت کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے کیونکہ اس سے عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا ۔”
خیا ل رہے کہ بھارت کے دورے پر موجود افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کی بھارتی ہم منصب جے شنکر سے بھی ملاقات ہوئی جس میں بھارت نے افغانستان میں بھارتی تکنیکی مشن کو سفارت خانے کا درجہ دینے کا اعلان۔
ملاقات کے دوران بھارتی وزیر خارجہ نے افغان وزیر خارجہ کو ایمبولینسز کا تحفہ دیا۔ انہوں نے ایمبولینسز کا دورہ بھی کروایا اور 20 میں سے 5 ان کے حوالے کیں۔









