بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ٹرانس جینڈر کیلیے علیحدہ شناختی کارڈ؛ بھارتی سپریم کورٹ کا نیا فیصلہ آگیا

ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) امینڈمنٹ ایکٹ 2026 بھارتی پارلیمنٹ نے مارچ میں منظور کیا تھا۔بھارت میں ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق سے متعلق نئے قانون کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت میں ایک اہم فیصلہ سامنے آیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جیومالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے پیر 17 اگست کو ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) امینڈمنٹ ایکٹ 2026 کے خلاف دائر تقریباً 15 درخواستوں کی سماعت کی۔

اس کیس میں بھارتی سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی تھی ٹرانس جینڈ کے لیے جاری کیے خصوصی شناختی کارڈز اس مقدمے کا فیصلہ آنے تک برقرار رہیں گے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔

جس پر حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ نئے قانون کے نفاذ سے قبل جاری کیے گئے ٹرانس جینڈر شناختی کارڈز بدستور قابلِ قبول رہیں گے اور زیرِ سماعت مقدمات کے حتمی فیصلے تک ان پر نئے قانون کا اثر نہیں پڑے گا۔

مرکز کی جانب سے کو بتایا کہ حکومت سے ہدایات لینے کے بعد وہ تصدیق کرسکتے ہیں کہ نئے قانون کے نافذ ہونے سے قبل جاری کیے گئے ٹرانس جینڈر آئیڈینٹیٹی (TGI) کارڈز عدالت میں زیرِ التوا درخواستوں کے فیصلے تک مؤثر رہیں گے۔

سپریم کورٹ نے مرکز کو جواب داخل کرنے کے لیے وقت دیتے ہوئے معاملے کی حتمی سماعت تقریباً تین ہفتے بعد مقرر کردی۔

سینئر وکیل جینا کوتھاری نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ جن ٹرانس جینڈر افراد کے پہلے سے جاری شناختی کارڈ منسوخ کیے جاچکے ہیں انہیں بحال کرنے کا عمومی حکم دیا جائے۔

تاہم بینچ نے کہا کہ اس مرحلے پر وہ تمام معاملات کے لیے عمومی حکم جاری نہیں کرسکتی۔ عدالت نے درخواست گزاروں سے کہا کہ جن افراد کے کارڈ منسوخ ہوئے ہیں وہ انفرادی کیسز کی تفصیلات کے ساتھ الگ درخواستیں دائر کریں۔

درخواست گزاروں کی جانب سے ایسے افراد کے حقوق کے تحفظ کا معاملہ بھی اٹھایا گیا جو شناختی کارڈ کے اجرا کے منتظر ہیں تاہم عدالت نے کہا کہ اس بارے میں مرکز کے جواب اور حلف نامے کا انتظار کیا جائے گا۔

ٹرانس جینڈر حقوق کے کارکنوں اور متعدد درخواست گزاروں کا بنیادی مؤقف ہے کہ 2026 کی ترمیم نے 2019 کے قانون میں موجود خود اپنی صنفی شناخت متعین کرنے کے حق کو محدود کردیا ہے۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ 2019 کا قانون بھارتی سپریم کورٹ کے تاریخی NALSA بمقابلہ یونین آف انڈیا فیصلے کے اصولوں سے ہم آہنگ تھا جس میں عدالت نے ٹرانس جینڈر افراد کے لیے اپنی صنفی شناخت کے تعین کے حق کو تسلیم کیا تھا۔

نئے قانون کو چیلنج کرنے والی درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ریاست کسی فرد کی صنفی شناخت کو طبی معائنے، میڈیکل بورڈ یا سرکاری تصدیق سے مشروط نہیں کرسکتی کیونکہ شناخت، وقار، خودمختاری اور نجی زندگی کے حقوق بھارتی آئین کے تحت بنیادی حقوق سے منسلک ہیں۔

درخواست گزاروں کے مطابق ترمیم شدہ قانون میں ٹرانس جینڈر شناخت کے لیے طبی اور انتظامی تصدیق کا نیا نظام متعارف کرایا گیا ہے جس سے وہ افراد متاثر ہوسکتے ہیں جو اپنی شناخت کو ریاستی یا طبی سرٹیفکیشن کے بغیر تسلیم کرانے کے خواہاں ہیں۔

سپریم کورٹ میں پہلے کی سماعتوں کے دوران بھی اس بات پر بحث ہوئی تھی کہ نئی قانون سازی نے خود شناخت کے اصول کی جگہ طبی شناخت اور سرکاری تصدیق کا نظام متعارف کرایا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کو آئینی سوال قرار دیتے ہوئے مرکز سے جواب طلب کیا تھا۔

درخواست گزاروں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ شناختی سرٹیفکیٹ سے منسلک نظام میں تبدیلی کے باعث بعض افراد کو سرکاری فلاحی اسکیموں، طبی سہولیات، وظائف اور دیگر مراعات کے حصول میں مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

اس معاملے پر مختلف بھارتی ہائی کورٹس میں بھی درخواستیں زیرِ سماعت تھیں۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے درخواست کی تھی کہ تمام مقدمات کو ایک جگہ منتقل کیا جائے تاکہ مختلف عدالتوں سے متضاد فیصلے سامنے نہ آئیں۔

15 جون کو سپریم کورٹ نے مختلف ہائی کورٹس میں زیرِ سماعت کارروائی روک دی اور مرکزی حکومت کی درخواست پر نوٹس جاری کیا تھا۔ عدالت کا مقصد تمام مقدمات کو ایک فورم پر لاکر قانون کی آئینی حیثیت کا یکساں فیصلہ کرنا ہے۔

یاد رہے کہ ٹرانس جینڈر پرسنز (پروٹیکشن آف رائٹس) امینڈمنٹ ایکٹ 2026 بھارتی پارلیمنٹ نے مارچ میں منظور کیا تھا اور صدر کی منظوری کے بعد یہ قانون بن گیا۔ ترمیم میں ٹرانس جینڈر شخص کی قانونی تعریف میں تبدیلی، شناخت کے لیے تصدیقی طریقہ کار اور بعض جرائم کے لیے سزاؤں میں تبدیلیاں شامل ہیں۔

قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں 2014 کے سپریم کورٹ کے NALSA فیصلے میں تسلیم کیے گئے اصولوں سے متصادم ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ قانون کا مقصد ٹرانس جینڈر افراد کے تحفظ کو مؤثر بنانا اور شناختی نظام کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنا ہے۔

مزید پڑھیں:ملک میں آج فی تولہ سونا 2000 روپے مہنگا ہوگیا

عدالت نے مئی کی سماعت میں یہ خدشہ بھی اٹھایا تھا کہ بعض افراد سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھانے کے لیے خود کو غلط طور پر ٹرانس جینڈر ظاہر کرسکتے ہیں۔ تاہم حتمی طور پر یہ طے ہونا باقی ہے کہ نئی قانون سازی آئین کے بنیادی حقوق اور 2014 کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے کس حد تک مطابقت رکھتی ہے۔