کراچی میں ٹریفک پولیس کے ای چالان سسٹم میں شدید خامیاں سامنے آئی ہیں، جس کے باعث کئی شہریوں کو ایسے چالان بھیجے جا رہے ہیں جو دراصل ان کے نہیں ہیں۔
متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ چالان پر درج موٹرسائیکل نمبر اور اصل نمبر مختلف ہیں۔ ایک شہری نے بتایا کہ چالان میں موٹرسائیکل نمبر مختلف لکھا گیا ہے، جبکہ وہ خود چالان میں درج وقت اور مقام پر موجود ہی نہیں تھا۔ مثال کے طور پر چالان میں 27 اکتوبر کو صبح 9:45 بجے تین تلوار، کلفٹن کا وقت اور مقام درج تھا، حالانکہ شہری اسی وقت اپنے گھر اسکیم 33 میں موجود تھا۔
چالان میں شہری پر الزام تھا کہ وہ بغیر ہیلمٹ کے موٹرسائیکل چلا رہا تھا اور اسے 2,500 روپے جرمانہ اور 6 ڈی میرٹ پوائنٹس دیے گئے۔ متاثرہ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ای چالان میں غلطیاں معمول بن گئیں تو شہری کہاں جائیں گے اور انصاف کیسے حاصل ہوگا۔
خیال رہے کہ صرف تین دن میں کراچی کی سڑکوں پر 11,000 سے زائد ای چالان کیے گئے، جن میں سے 1,755 چالان تیز رفتاری پر تھے۔ شہریوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیمرے اور ڈیوائسز لگائے گئے ہیں، مگر سڑکوں پر تیز رفتاری کی حد یا دیگر خلاف ورزیوں کی واضح نشاندہی کے لیے کوئی بینرز یا سائن بورڈ نہیں لگائے گئے۔
اس حوالے سے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ای چالان سسٹم کے تحت پہلا چالان معاف ہے، مگر دوبارہ قانون کی خلاف ورزی کرنے پر چالان بھرنا ہوگا۔
کراچی: ای چالان سسٹم میں سنگین خامیاں، شہری پریشان








