فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اربوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث کمپنیوں، اداروں اور افراد کے خلاف تحقیقات کے دائرے کو وسیع کر دیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر میں اصلاحات کے جائزہ اجلاس میں وفاقی وزرا، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (PRAL) میں جاری ڈیجیٹل اصلاحات کے تحت آڈٹ والٹ، ڈیٹابیس پروٹیکشن وال، سیکیورٹی آپریشن سینٹر اور مستقل نگرانی جیسے اقدامات نافذ کر دیے گئے ہیں تاکہ ٹیکس فراڈ ممکن نہ رہے۔
اجلاس میں سیلز ٹیکس فراڈ سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے رپورٹ پیش کی، جس میں بتایا گیا کہ پرال کے متروک نظام اور نگرانی کی کمی کی وجہ سے سیلز ٹیکس فراڈ ممکن ہوا۔ وزیراعظم نے اس سلسلے میں بین الاقوامی کنسلٹنسی فرم سے فرانزک آڈٹ کروانے کی ہدایت دی تھی۔
وزیراعظم نے تحقیقات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ تین ہفتوں کے اندر رپورٹ پیش کی جائے اور اس میں شامل کمپنیوں، اداروں اور افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔









